Home / شوبز / گلوکارہ مہہ جبین کو اسپتال میں 50روز، حکومتی اعلان کردہ امداد نہ مل سکی

گلوکارہ مہہ جبین کو اسپتال میں 50روز، حکومتی اعلان کردہ امداد نہ مل سکی

 گلوکارہ مہہ جبیں قزلباش بدستور تشویش ناک حالت میں ہیں فوٹوایکسپریس

پشاور: معروف پشتو گلوکارہ مہہ جبین قزلباش کو لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور میں وینٹی لیٹر پر 50 روز ہوگئے ہیں جب کہ گلوکارہ کو حکومتی اعلان کردہ امداد بھی تاحال نہ مل سکی۔

ذرائع کے مطابق معروف گلوکارہ مہہ جبین قزلباش کو دل کے دورے کے باعث یکم جنوری کو اسپتال لایا گیا تھا جہاں ان کو جنرل آئی سی یو میں وینٹی لیٹر پر رکھا ہوا ہے۔ بیمار گلوکارہ بدستور تشویش ناک حالت میں ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق گلوکارہ کو بستر پر پڑے پڑے جسم پر زخم ہونے لگے ہیں جس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔

گلوکارہ کے بارے میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ مریضہ کو روزانہ کی بنیاد پر دو گھنٹے ٹرائل پر رکھا جاتا ہے جس میں ان کا وینٹی لیٹر ہٹادیا جاتا ہے، تاہم بتایا جارہا ہے کہ وینٹی لیٹر کے بغیر زیادہ دیر مریض کو نہیں رکھا جا سکتا ہے۔ گلوکارہ  کے لئے مشینوں پر مصنوعی سانسوں کی فراہمی کے بندوبست کے حوالے سے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مشین کے ذریعے وہ ایک منٹ میں 21 سانسیں لیتی ہیں جس میں بمشکل چار سانسیں ان کی اپنی ہیں باقی 17 مصنوعی سانسوں پر زندہ ہیں۔

مہہ جبیں قز لباش کا سیچوریشن لیول بہت کم ہے، ڈاکٹرز کا یہ بھی کہنا ہے کہ مریضہ کے ٹھیک ہونے کے بعد بھی ساری زندگی بیڈ پر گزارنے کے چانسز ہیں۔  ذرائع کے مطابق اسپتال میں مریضہ کو علاج کی مفت فراہمی جاری ہے۔ ان کے ساتھ موجود تیماردار بیٹے کو باضابطہ بولٹن بلاک میں رہائش کےلئے کمرہ بھی فراہم کیا گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے وزیر اعلی کے مشیر اجمل وزیر نے اب تک دو لاکھ روپے گلوکارہ کے لواحقین کو دئیے ہیں تاہم سابق سینئر  وزیر عاطف خان کے اعلان کردہ 5 لاکھ روپے تاحال گلوکارہ کو نہیں مل سکے ہیں۔

دوسری جانب صورتحال یہ بھی ہے کہ اسپتال میں بیمار گلوکارہ کی عیادت کے لئے آنے والوں میں بھی نہایت کمی آگئی ہے۔  اس وقت صرف مریضہ کے ساتھ ان کا بیٹا دیکھ بھال کےلئے موجود ہے

Check Also

بلوچستان میں تین ہفتوں کے لیے شاپنگ مال، ریستوران اوربازاربند

کوئٹہ: محکمہ داخلہ نے تین ہفتوں تک صوبے بھر کے تمام شاپنگ مال، ریستوران اور بازاربند کردیئے۔ ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *