Home / کالم / ہماری” موج” ہماری” فوج” سے ہے

ہماری” موج” ہماری” فوج” سے ہے

 


ہماری” موج” ہماری” فوج” سے ہے
مادروطن اورہم وطنوں کی حفاظت کرتے ہوئے دشمن کومارنایا اس کے ہاتھوں مرنا ”ملازمت” نہیں ہوسکتی،بلاشبہ یہ ایک” مقدس مشن” ہے۔پاکستان اورپاکستانیوں کے وردی پوش محافظ اپنی شناخت ظاہرکئے بغیر ہرشرکامقابلہ کرنیوالے آئی ایس آئی کے پراسرارکردار ہمارے” خادم یاملازم” نہیں”محبوب اور محسن” ہیں۔پاکستان کے ساتھ ان نڈرمحافظوں کا” تنخواہ” نہیں ”وفا”کارشتہ ہے،ہمارے باوفااورباصفامحافظ راہ حق پرگامزن ہیں۔ پاک فوج کے سرفروش جانبازہوںیاپولیس کے فرض شناس جوان یہ ہمارے اپنے ہیں،کسی اہلکارکامتنازعہ انفرادی فعل قابل نفرت یاقابل گرفت ہوسکتا ہے لیکن ان اداروںکی مجموعی کارکردگی انتہائی شانداراورقابل رشک ہے ۔ فوج اورپولیس کی وردی کے رنگ مختلف ہیں مگرہمارے سرفروش جوانوں کے جوش سے ابلتے خون کارنگ سرخ جبکہ دونوں کے ہاتھوں میں سبزہلالی پرچم ہے۔ان کیلئے پاکستان محض وطن نہیں بلکہ ایک جنون اوران کی جنت ہے۔یہ شوق شہادت سے سرشار اورشیرخداحضرت علی ؓ کی تلوارہیں۔ پاکستان سے عشق ان کی رگ رگ میں خون بن کردوڑتا ہے ۔سکیورٹی فورسزمیں لوگ” اعزازیہ” کیلئے نہیں آتے بلکہ وردی میں اپنے خون سے دہشت گردی کے شعلے بجھانااورچراغ جلانا ان کا”اعزاز”اور”اعجاز” ہے،یہ اعزازہرگزاعزازیہ کامحتاج نہیں ہوسکتا۔ مادروطن پاکستان کادفاع کرتے ہوئے دشمن کودھول چٹانااور میدان جنگ میں جوانمردی سے جام شہادت نوش کرنا ایک بیش قیمت سعادت اورعبادت ہے ،اس فورس میں ملک وقوم کیلئے قربان ہونیوالے کپتان محمدامین وینس اور مادروطن کے جانثار”عبادت نثار”سے فرض شناس آفیسر بھی ہیں ۔
مادروطن سے محبت کاقرض چکاتے ہوئے شہادت ہرکسی کونصیب نہیں ہوتی بلکہ قدرت کے منتخب اور محبوب افرادکویہ مقام ملتا ہے۔ 4اگست 2018ءکولاہوراورپنجاب سمیت چاروں صوبوں میں پولیس کے زیراہتمام یوم شہداءبھرپور جوش وجذبہ اورعقیدت کے ساتھ منایاگیا ۔ ہرشہرمیںپروقارتقریبات منعقدکی گئیں ،جہاں پاک فوج،پنجاب پولیس کے آفیسرز،شہداءکے ورثا، اہل صحافت اوراہل سیاست سمیت معاشرے کے مختلف طبقات سے نمایاں لوگ شریک ہوئے ۔پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمرجاویدباجوہ نے اپنے ایک خصوصی پیغام میں قیام امن کیلئے پولیس کے شہداءکے تعمیری کردارکی شہادت دی اوران کی قربانیوں کوسراہا۔ آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کی ”شاباش” پولیس فورس کے سرفروش جوانوں، شہیدوں اورغمزدہ یتیموں سمیت ورثا کیلئے سرمایہ افتخار ہے ۔ڈی آئی جی لاہور کے باصلاحیت پی آراوسیّدحمادرضا کی دعوت پرراقم بھی الحمراءہال لاہور میں پولیس شہداءکی پروقارتقریب میں شریک ہواجہاں پنجاب پولیس کے سابق نیک نام آئی جی، باریش اوردرویش حاجی حبیب الرحمن سے ملاقات ہوئی اورانہوں نے مجھے ڈھیروں دعائیں دیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد حاجی حبیب الرحمن کازیادہ تر وقت حجازمقدس کے پرنورماحول میں اور بغداد کے مقدس مزارات پرگزرتا ہے اوروہاں بھی وہ اپنے پیاروں کے ساتھ ساتھ مجھے بھی اپنی دعاﺅں میں یادرکھتے ہیں،نیک نیت اورنیک سیرت حاجی حبیب الرحمن کی قیادت میں پنجاب پولیس نے ٹیک آف کیا تھامگران کے بعد آنیوالے ایک آئی جی نے جو اپنے ادارے کوفعال اور جوانوں کوزورآوربنانے کی بجائے خود زروجواہر کا”مشتاق ”رہا ،اس نے ایک شوباز کی ملی بھگت سے پولیس وردی کارنگ بدل کرفورس کامورال گرادیا۔پنجاب کے سواباقی صوبوں میں پولیس والے آج بھی پرانامگرگریس فل یونیفارم پہنتے ہیں جبکہ ایک سرمایہ دار کی ”منشائ” سے پنجاب پولیس تختہ مشق بن کررہ گئی ہے۔اس تقریب میں میری نگاہیں لاہور کے سابق دبنگ سی سی پی او کیپٹن (ر)محمدامین وینس کوتلاش کرتی رہیں مگر وہ مجھے نظرنہیں آئے ،مجھے لاہورمیں ہونیوالی ا س تقریب میں کیپٹن (ر)محمدامین وینس اورلاہور کے سابقہ ایس ایس پی ایڈمن راناایازسلیم کی کمی شدت سے محسوس ہوئی کیونکہ پچھلے تین چارسال تک یہ دونوں آفیسرزانتہائی جانفشانی اورخندہ پیشانی سے پولیس کے شہداءکی روح پرور تقریبات کااہتمام کرتے رہے ہیں۔ شہداءپولیس کے ورثا کیلئے کیپٹن (ر)محمدامین وینس ان کے نجات دہندہ اورمسیحا ہیں ۔فوج اورپولیس سمیت سکیورٹی فورسز کے شہداءکی یادیں تازہ اوران کے ورثا کی اشک شوئی کرنا معاشرے کی زندہ ہونے کی علامت اورضمانت ہے ۔لاہورپولیس کے کپتان کی حیثیت سے کیپٹن (ر)محمدامین وینس کی خدمات جبکہ ان کی خصوصی ہدایات پر پولیس اہلکاروں سمیت شہداءپولیس کے پسماندگان کی فلاح وبہبود کیلئے راناایازسلیم کی درست اور دوررس اصلاحات کوفراموش نہیں کیا جاسکتا۔کیپٹن (ر)محمدامین وینس کو شہرلاہورمیں قدم قدم پرایک نیا چیلنج درپیش رہا،انہوں نے امن وامان برقراررکھنے کیلئے اپنے آفیسرزاورجوانوں سے بھرپورکام لیا۔اعصاب شکن صورتحال میں بھی کیپٹن (ر)محمدامین وینس کے ماتھے پر کبھی شکن نہیں آئی۔لاہورمیں مذہبی ،سیاسی ،سماجی اورتفریحی سرگرمیوں کے پرامن انعقادکاکریڈٹ لاہورپولیس کے سابقہ کپتان محمدامین وینس کوجاتا ہے ،انہیں شفاف الیکشن کے نام پرہٹایاگیا تھا لیکن اس کے باوجودمتحدہ اپوزیشن کے عمائدین حالیہ الیکشن کوسلیکشن قراردے رہے ہیں توپھرپولیس آفیسرزاورایس ایچ اوزکو تبدیل کرنے سے کیاحاصل ہوا۔شفاف الیکشن کیلئے پولیس آفیسرزاورایس ایچ اوزکی تبدیلی کاسیلاب ناقابل فہم ہے،اگرکسی آفیسرنے کسی جماعت کی عنایات کاقرض چکانابھی ہوتووہ جہاں ہوگاوہاں حق نمک اداکردے گا۔تبادلے سے کسی کی فطرت یاضرورت تبدیل نہیں ہوتی۔آئندہ یہ ایکسرسائز نہ ہوتوبہترہوگا ،الیکشن سے قبل جوپولیس آفیسراورایس ایچ او زجہاں جہاں تعینات تھے انہیں ان کی سابقہ پوزیشن پربحال کیاجائے لیکن شایدآئی جی پنجاب سیّدکلیم امام نے لاہوریاسنٹرل پولیس آفس میں ضرورت سے زیادہ دل لگالیا ہے اورشایدوہ یہ طاقتور منصب چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہیں ورنہ پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ نے اب تک لاہور سمیت پنجاب بھر میں تبدیل ہونیوالے آفیسرزاورایس ایچ اوزکی ان کے سابقہ شہروں میں واپسی کیلئے تحریری احکامات صادرکردیے ہوتے۔معطل بلدیاتی نمائندوں کوبحال ہوئے کئی روزہوگئے مگر پولیس آفیسرز ابھی تک اپنے سابقہ شہروں میں واپسی کے منتظر ہیں،اس سلسلہ میںپروفیسر حسن عسکری فوری طورپر اقدام کریں ۔تقریب کی طرف واپس آتے ہیں، 4اگست کوپولیس کے یوم شہداءکی تقریب کے سٹیج پرشہداءکی دوماﺅں کے سوا زیادہ تر”گیسٹ ایکٹر ”یعنی مہمان اداکاربراجمان تھے جبکہ حاجی حبیب الرحمن سمیت سابق آئی جی حضرات کوپنڈال میں بٹھایاگیا تھا حالانکہ ان کیلئے بھی کشادہ اورخالی سٹیج پرکرسیاں لگائی جاسکتی تھیں مگراس کیلئے منتظمین کااعلیٰ ظرف ہونا ضروری تھا،اگرآج وہ اپنے سابقہ سینئرز کو عزت دیں گے توآنیوالے دنوں میں یقیناانہیں بھی عزت ملے گی کیونکہ انسان جوبوتاہے وہی کاٹتا ہے ۔تقریب کے دوران شہداءکیلئے ایک منٹ کی خاموشی ناقابل فہم تھی ،مخصوص مائنڈسیٹ کے حامل مگرمٹھی بھرلوگ ہمارے اسلامی معاشرے میں اموات کاسوگ منانے کیلئے موم بتی اور”خاموشی” والے مغربی کلچر کوفروغ دیناچاہتے ہیں ،وہ یادرکھیںشہرخموشاں والے اپنے درجات کی بلندی کیلئے ہماری” خاموشی” نہیںبلکہ دعاﺅں اوروفاﺅں کے منتظر ہوتے ہیں۔تقریب کے اختتام پر شہداءکے بلندی درجات کیلئے تلاوت قرآن مجید فرقان حمیداوراجتماعی دعابھی کی گئی لیکن ایک منٹ کی خاموشی کاکوئی جواز نہیں تھا۔ پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ پروفیسر حسن ،نگران وزیرداخلہ اورسابقہ آئی جی پنجاب شوکت جاوید،آئی جی پنجاب سیّدکلیم امام ،سی سی پی اولاہور بشیراحمد ناصر،سی ٹی اولاہور کیپٹن (ر)لیاقت علی ملک اورشہداءکے ورثانے بھی خطاب کیا ۔ڈی آئی جی آپریشن لاہور شہزاداکبر،ڈی آئی جی عبدالرب چودھری،ڈی آئی جی طارق قریشی ،پروفیشنل ایس پی چودھری عاطف حیات ،انتھک ایس پی ڈاکٹرمستنصر عطاءباجوہ ،بادشاہی مسجد لاہور کے امام وخطیب مولاناعبدالخبیرآزاد،سینئر صحافی سلمان غنی اورسیّدحمادرضا بھی تقریب میں شریک تھے۔لاہور کے متحرک سی ٹی او کیپٹن (ر)لیاقت علی ملک مقررین کوخطاب کیلئے ڈائس پرمدعوکررہے تھے اوراس دوران لیاقت علی ملک کی پرجوش باتوں سے الحمراءہال زوردار تالیوں سے گونج اٹھتا تھا ۔ کیپٹن (ر)لیاقت علی ملک کے انداز گفتگوسے ان کی ” لیاقت” جھلک رہی تھی ۔ باذوق لیاقت علی ملک نے دوران گفتگوجواعلیٰ معیار کے اشعار استعمال کئے انہیں بھی بہت سراہاگیا ۔
ستر کی دہائی میں پاکستان ایک خاندان کی مانند تھا،ان دنوں عوام کے پاس شرافت اورذوالفقارعلی بھٹو کے پاس قیادت تھی۔ذوالفقارعلی بھٹو کے دورمیںپاکستان پروقاراورپراعتماداندازسے ٹیک آف کررہا تھاجوان کے بعد سے آئی سی یومیں پڑا ہے مگرعمران خان کی کامیابی سے پاکستانیوں کوایک نویداور امید ملی ہے۔ذوالفقارعلی بھٹو کی باصلاحیت بیٹی بینظیر بھٹو کوعوام نے دوباروزیراعظم منتخب کیامگروہ بھی اپنے باپ کے سیاسی ورثہ کی حفاظت کرنے میں ناکام رہیں ۔ اسی کی دہائی میںشریف سیاست میں آئے توملک سے شرافت اوربرکت کاجنازہ اٹھ گیا مگر اقتدار کے ایوانوں میںعداوت عام ہوگئی۔سیاسی انتقام اورمیڈیا ٹرائل کابدترین دور شروع ہوا ۔بات سترکی دہائی سے شروع ہوئی تھی،اس دور میں پاکستان ایک خاندان کی مانند تھا،مشرق کی شاندارروایات کے امین پی ٹی وی نے پاکستان کوایک خاندان بنانے میں کلیدی کرداراداکیا ،میںاورپی ٹی وی ایک ساتھ بڑے ہوئے ۔اس دورمیں پی ٹی وی پرصرف ہمارے ہیروزآتے تھے اوران کے ساتھ ہماری محبت مزید بڑھ جاتی تھی۔اسلامیت ،پاکستانیت اورانسانیت پی ٹی وی کاٹریڈمارک ہواکرتا تھامگر اب ”ٹی وی” اور”ٹی بی” میں کوئی فرق نہیں رہا۔آزادی صحافت کے نام پرکچھ چینل سیاست کرنے اورچنگھاڑنے میں مصروف ہیں ۔پی ٹی وی نے شخصیت پرستی کی بجائے وطن پرستی اورپاکستا ن کے ریاستی اداروں کی قدروقیمت اورعزت کوفروغ دیاتھا،مجھے یادہے ہمارے باوردی جوان لاہور سے براستہ فیروزپورروڈ قصور کی طرف پیدل جارہے ہوتے توہم دوست مسلسل کئی گھنٹوں تک اپنے فوجی جوانوں کوسلیوٹ کرتے اورجس وقت ان کاقافلہ ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوجاتا توہم بھیگی آنکھوں کے ساتھ دل ہی دل میں ان کی کامیابی وکامرانی ،سروری ،برتری اورسرفرازی کیلئے دعاکرتے ہوئے اپنے اپنے گھرچلے جاتے۔جوان ہوئے تو خاکی وردی سے محبت شدت اختیار کرگئی،ان دنوں فوج میں جانے کاجنون تھامگرمقدر نے ساتھ نہ دیا لیکن زندگی میں ایک باروردی پہننااورموت آنے پرقومی پرچم میں دفن ہوناچاہتاہوں۔اس وقت سے اب تک پاکستان اورافواج پاکستان کے ساتھ والہانہ محبت ہماری رگ رگ میں خون بن کردوڑتی ہے اوریہ عشق قبرتک ہمارے ساتھ جائے گا۔پاک فوج اس محبوب کی طرح ہے جس کوچاہنے والے بہت ہیں مگر جودیوانہ وارچاہتے ہیں ان کے درمیان رقابت یاعدوات نہیں بلکہ بے پایاںمحبت ہے ۔مادر وطن کے ساتھ ساتھ اس کے سرفروش اورکفن پوش دفاعی اداروں کے ساتھ عشق کی لذت کوہرکوئی محسوس نہیں کرسکتا۔
پاکستان اورافواج پاکستان سمیت سکیورٹی فورسز سے محبت میری عادت اورعبادت ہے۔میں آئی ایس کی قابل رشک کامیابیوں اورقربانیوں کی کہانیاں سن سن کربڑاہوا ہوں۔امن اور دفاع وطن کیلئے اپنے خون سے مشعل روشن اور جام شہادت نوش کرنیوالے میرے ہیروہیں۔سلیقے سے پہنی وردی میں چاک وچوبند، فرض شناس ،سرفروش آفیسرز اوراہلکار میرے محبوب ہیں۔یہ جانبازہروقت مادروطن اورہم وطنوں کی حفاظت کیلئے سردھڑ کی بازی لگانے کیلئے تیار بلکہ انتظارمیںہوتے ہیں۔مجھے وردی سے عشق ہے کیونکہ میں بچپن سے اپنوں کووردی میں دیکھتاآیاہوں ۔ہماری” موج” ہماری” فوج” کے دم سے ہے ،جس کسی کوشبہ ہووہ فلسطینی ،شامی اورکشمیری بھائیوں کی حالت زارضروردیکھے۔ہمارے قابل رشک”
اداروں” کیخلاف زہراگلنے والے معاشرے کے متنازعہ اورمسترد کرداراپنے ناپاک ” ارادوں” کوچھپانے میں ناکام رہے ۔اپنے وطن دشمن طرزسیاست کے سبب ”آشکار”ہونیوالے عوام کے انتقام کا”شکار”اورآئندہ بھی انتخابات میں ناکام ونامرادہوتے رہیںگے۔

Check Also

پریشان حال چھوٹے کسان

    پریشان حال چھوٹے کسان چوہدری ذوالقرنین ہندل:لکھاری گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں،مکینیکل انجینیئر ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *