Home / کالم / ہمیں کیوں نکالا۔۔؟

ہمیں کیوں نکالا۔۔؟

عمرفاروق /آگہی
ہرالیکشن کی طرح حالیہ الیکشن کے نتائج کوبھی پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتیں قبول کرنے کوتیارنہیں ہیں دھاندلی اورنتائج تبدیل کرنے کے حوالے سے مختلف ویڈیوز،رپورٹس اورشواہدپیش کیے جارہے ہیں مگرالیکشن کمیشن اوردیگرمتعلقہ ادارے ان کوماننے کوتیارنہیں ہیں وزارت عظمی کے امیدوارعمران خان نے انتخابی حلقے کھلوانے کی پیش کش کی ہے جس کواپوزیشن جماعتوں نے مستردکرتے ہوئے جوڈیشل کمیشن بنانے اورالیکشن کمیشن کے مستعفی ہونے کامطالبہ کردیاہے اس مطالبے پرعمل ہوتاہے کہ نہیں البتہ عمران خان یورپی مبصرین اورغیرسرکاری تنظیم فافن کی رپورٹ پرہی تحقیقات کروالیں توبہت کچھ آشکارہوجائے گا ۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی اور کسی طرح سے بھی ان کو صاف اور شفاف قرار نہیں دیا جا سکتا۔جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا ان انتخابات کی قلعی مزیدکھلتی جائے گی۔
عام انتِخابات 2018 کے حوالے سے یورپی یونین کے مبصرین  نے کہاہے کہ غیر جمہوری  قوتوں نے انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی،  حالیہ انتِخابات2013میں ہونے والے عام انتخابات سے کسی طور پر بھی بہتر نہیں، سیکورٹی اہلکاروں کی پولنگ  اسٹیشنوں کے اندر تعیناتی ناقابل فہم ہے ، غیر مجاز افراد پولنگ اسٹیشنز میں دندناتے  رہے، عملے پر اثر انداز ہوئے، اہل ووٹرز کوروکاگیا، پنجاب میں ایسا زیادہ ہوا۔  وفد کے سربراہ مائیکل گالر نے کہا کہ ان کے مشاہدے کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی انتخابی مہم چلانے کے لیے یکساں مواقع فراہم نہیں کیے گئے۔ قومی ٹیلی  ویژن  اور دیگر نجی ٹی وی چینلز نے بھی سیاسی جماعتوں کے قائدین کو یکساں مواقع فراہم نہیں کیے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان انتخابی مہم کے دوران کی گئی تقاریر کو 7 گھٹے براہ راست دکھایا گیا جبکہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف کو چار گھنٹے اور بلاول بھٹو زرداری کو تین گھنٹے لائیو کوریج دی گئی۔ غیر جمہوری طاقتوں نے مختلف ٹی وی چینلز پر فون کرکے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے استقبال کے لیے آنے والے لوگوں کی کوریج نہ کرنے کے بارے میں بھی کہا۔ انتخابات سے پہلے اور انتخابات کے دوران میڈیا پر غیر ضروری پابندیاں عائد کی گئی تھیں اور میڈیا کے ارکان کے پاس الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ اجازت نامے کے باوجود پولنگ اسٹیشن کے اندر ہونے والی کارروائی دکھانے کی اجازت نہیں دی گئی ۔
  انتخابی معاملات کی نگرانی کرنے والی غیر سرکاری تنظیم فافن کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشنز پر سیکورٹی  اہلکار خلاف ضابطہ کارروائیوں میں متحرک رہے۔1571  پولنگ اسٹیشنز کے اندر ووٹرز کو مخصوص امیدوار کیلئے راغب کیا گیا اور غیر مجاذ افراد دندناتے رہے۔ اس کے علاوہ 163 پولنگ اسٹیشنز پر یہ افراد پولنگ عملہ پر اثرانداز ہوئے۔ 2370 پولنگ اسٹیشنز میں بیلٹ خفیہ رہنے کی خلاف ورزی ہوئی اور ایسے سب سے زیادہ واقعات پنجاب میں ہوئے جن کی تعداد 1774 ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ تین سو چوالیس پولنگ اسٹیشنز پر اہل ووٹرز کوسیکورٹی اہلکاروں کی کی طرف سے روکا جاتا رہا۔ سب سے زیادہ واقعات پنجاب میں ہوئے ہیں۔ اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کے 35 حلقوں کے مسترد ووٹوں کی تعداد جیتنے والے کی لیڈ سے زیادہ ہیں اور ایسے حلقوں کی سب سے زیادہ تعداد صوبہ پنجاب میں ہے جو 24بتائی جاتی ہے۔
ان رپورٹس کے بعد یہ لطیفہ یادآرہاہے کہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جنگل کے سب جانور شیر کے پاس گئے ،شیر سے معاہدہ کیا کہ آپ جب بھی کوئی شکار کریں ایک حصہ آپ خود کھا کر دو حصے ہمیں دیا کریں۔شیر نے بات مان لی،جب شیر نے شکار کیا تو سب جانور اپنا حصہ لینے پہنچ گئے۔انہوں نے جب شیر سے مطالبہ کیاتو شیر بولا۔پہلا حصہ میرا ہے کیوںکہ شکار میں نے کیا ہے۔دوسرا حصہ بھی میرا ہے کیوں کہ میں جنگل کا بادشاہ ہوں۔تیسرا حصہ بھی میرا ہے کیوں کوئی اس کو میرے سامنے سے کوئی اٹھا کر تو دیکھے ۔سیاسی جماعتوں نے الیکشن کمیشن کواتنامضبوط کیا اب وہ ان سے کہہ رہاہے کہ ہمت ہے توالیکشن لڑکردکھائیں،ہمت ہے توووٹ ڈال کردکھائیں ،ہمت ہے توتبدیل ہوتے نتائج روک کردکھائیں ،ہمت ہے توفارم 45لے کردکھائیں  ،ہمت ہے تودھاندلی ثابت کرکے دکھائیں ،ہمت ہے توتحقیقات کرکے دکھائیں ۔
اس الیکشن کاایک دوسراپہلوبھی ہے جونہایت خوفناک ہے وہ یہ ہے کہ نئی پارلیمنٹ سے ملک کی صف اول کی قیادت ،پختون اورمہاجررہنمائوں ،سینئروتجربہ کارسیاستدانوں کوباہرکردیاگیاہے جبکہ پنچابیوں کی قیادت پہلے ہی اڈیالہ جیل سے پمزہسپتال منتقل ہوچکی ہے  ،مسئلہ مولانافضل الرحمن اورسراج الحق کی ایک سیٹ کانہیں ہے سوال یہ ہے کہ نئی پارلیمنٹ میںمذہب اوراہل مذہب کے خلاف کیاواردات کی جانے والی ہے کہ ٹارگٹ کرکے تواناآوازکاراستہ روکاگیاہے ۔پارلیمنٹ کوپی ٹی آئی کی دھونی دے کرمذہبی رہنمائوںسے ،،پاک،،کیاگیا ہے ۔
 کیاوجہ ہے کہ پختون قیادت اسفندیارولی ،آفتاب شیرپائو،حاجی غلام بلور،محمودخان اچکزئی ودیگرکوبھی مکھن سے بال کی طرح نکال دیاگیا ،اگرچہ مولانا فضل الرحمن اور سراج الحق کو کسی بھی طور پشتونوں کے قائدین کے طور پر تسلیم نہیں کیا جا تالیکن ان کو بھی شایدمذہبی رہنماء ہونے کے ساتھ ساتھ پشتو زبان بولنے اور پشتون علاقوں میں ہی فالوورز رکھنے کی سزا دی گئی۔اسی لیے پشتون قائدین اور پشتو بولنے والے سیاستدان یہ تک کہہ گئے کہ پشتون قائدین کو اس لیے پارلیمانی عمل سے باہر کیا گیا کہ پشتونوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف بولنے والا کوئی ایوان میں نہ ہو۔کیاہمارے مقتدراداروں نے سوچاہے کہ جس آوازکوپارلیمنٹ میں جانے سے روکاگیاہے وہ آوازسڑکوں اورچوراہوں پرگونجناشروع ہوئی تواس کاکتنانقصان ہوگا ؟حالات یہ ہیں کہ پشتون تحفظ مووومنٹ (پی ٹی ایم )پہلے ہی ہمارے لیے مسئلہ بنی ہوئی ہے ۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ تاثربھی ہے کہ 2014 میں جمہوریت کو دھرنے کے خطرے سے بچانے کے لیے جن قائدین نے بنیادی کرداراداکیاتھا انہیں اٹھاکرباہرپھینک دیاگیاہے ۔جوسیاسی جماعتیں کسی طورپربھی سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی حامی تھیں یاانہوں نے اس ،،مشکل وقت،، میں مقتدرقوتوں کاساتھ نہیں دیاانہیں نشان عبرت بنادیاگیا۔کراچی سے ایم کیوایم کاصفایاکرکے پاکستان تحریک انصاف کواس شہرکانیادولہابنایاگیاہے جبکہ گزشتہ تیس سال سے کراچی پرحکمرانی کرنے والوں کویک دم دیوارسے لگادیاگیا ،مہاجروں کی قیادت پارلیمنٹ سے باہرہوگئی  انتخابات میں پہلے بھی بکس بھرے جاتے تھے اس مرتبہ بھی بکس بھرے گئے صرف کردارتبدیل ہوگئے۔
کہایہ جارہاہے کہ جن جماعتوں یالوگوں کوسٹیبلشنمٹ کی جماعت یالوگ کہاجاتاتھا وہ سب ہارگئے ہیں مگرتاثریہی ہے کہ اب کی بار ان جماعتوں اورافراد کو ہروا کر مقتدر طبقہ ان انتخابات کو شفاف قرار دلوانے کے تاثرکو قائم کرنا چاہتا ہو۔یا ہو سکتا ہے کہ مقتدر طبقے نے متعدد پارٹنرز سے ڈیل کرنے کی بجائے ایک ہی پارٹنر کو قابو کرنے کے عمل کو زیادہ بہتر جانا ہو۔مگراس کانقصان یہ ہواہے کہ نئی پارلیمنٹ چوہدری نثار،یوسف رضاگیلانی ،شاہدخاقان عباسی ،ڈاکٹرفاروق ستارودیگرتجربہ کاراورزیرک سیاستدانوں سے محروم ہوگئی ہے ۔جولوگ پارلیمنٹ سے باہرکیے گئے ہیں یاجوپارلیمنٹ میں لائے گئے ہیں وہ جانتے ہیں کہ گیم کیاہے ؟مگرسب خاموش ہیں کیوں کہ یہی وقت کاتقاضاہے،فی الحال ہارنے والے مل کریہ یہ نعرہ لگارہے ہیں کہ ہمیں کیوں نکالا؟
کچھ اداروں کو شاید یہ غلط فہمی ہے کہ اس نئے پاکستان میں اہم جماعتوں کوپارلیمنٹ میں جانے سے روک کروہ مقاصدحاصل کرنے میں  کامیاب ہو جائیں گے۔وہ نہیں جانتے کہ انہوں نے ان قائدین کو موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ اپنی تنظیمی امور پر توجہ دیں، اپنی صفوں کو مزید منظم کریں اور پھر نئی اور مضبوط توانائی کے ساتھ،اسلامی قوانین کے نفاذ، قوموں کی برابری، اداروں کو آئینی کردار تک محدود رکھنے، سویلین بالادستی اور اٹھارویں ترمیم کے ذریعے وسائل کی منصفانہ تقسیم کے نعروں کو گلی گلی اور بین الاقوامی کوریڈورز میں اٹھائیں۔

Check Also

پریشان حال چھوٹے کسان

    پریشان حال چھوٹے کسان چوہدری ذوالقرنین ہندل:لکھاری گوجرانوالہ سے تعلق رکھتے ہیں،مکینیکل انجینیئر ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *