Home / کالم / ہمےں موت سے عبرت حاصل کرنی چاہئے

ہمےں موت سے عبرت حاصل کرنی چاہئے

ہمےں موت سے عبرت حاصل کرنی چاہئے
(مشہور داعی اسلام حاجی محمد عبد الوہاب ؒ اب نہ رہے)
آج (18-11-2018) ۹ ربےع الاول کی صبح ۵۹ سال کی عمر مےں مشہور داعی اسلام حاجی محمد عبد الوہاب صاحب انتقال فرماگئے۔ حاجی صاحب کرنال (ہرےانہ) کے رہنے والے تھے۔ ےہ خطہ اترپردےش کے مشہور ضلع سہارن پور کے قرےب واقع ہے۔ پےدائش ۳۲۹۱ءمےں دہلی مےں ہوئی تھی۔ موصوف قبےلہ راو¿ راجپوت سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ مشہور بزرگ شاہ عبدالقادر رائے پوری ؒ کے خلےفہ تھے۔ تقسےم سے قبل انہوں نے بطور تحصےل دار فرائض انجام دےے تھے۔ فاضل دارالعلوم دےوبند حضرت مولانا الےاس کاندھلوی ؒ کے زمانہ سے ہی دعوت وتبلےغ کی محنت سے جڑے ہوئے تھے ۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی دعوت وتبلےغ کے لےے وقف کردی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کو بہت مقبولےت عطا فرمائی تھی۔ پاکستان مےں تبلےغی جماعت کے امےر تھے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، اُن کی قبر کو جنت کا باغےچہ بنائے، انہےں جنت الفردوس مےں بلند مقام عطا فرمائے، اور ہم سب کو مرنے سے قبل مرنے کی تےاری کرنے والا بنائے۔
ان کی عظےم خدمات عرصہ دراز تک ےاد رکھی جائےں گی۔ اس سادہ صفت شخص کی بے شمار خوبےوں کو سالوں سال لکھا، پڑھا اور سنا جائے گا۔ مگر اس موقع پر ہمےں ےہ غور وفکر کرنا چاہئے کہ انسان کتنی بھی بلندےوں پر پہنچ جائے اور کتنی بھی کامےابےوں کو حاصل کرلے لےکن اےک دن اےسا ضرور آئے گا کہ اس کی آنکھ دےکھ نہےں سکتی، زبان بول نہےں سکتی، کان سن نہےں سکتے، ہاتھ پےر کام نہےں کرسکتے، غرضےکہ ہر شخص کا دنےاوی سفر اےک دن ختم ہوجائے گا، ےعنی اس کو موت آجائے گی۔ پوری کائنات مےں سب سے افضل واعلیٰ مخلوق انبےاءکرام کو بھی اس مرحلہ سے گزرنا پڑا ہے۔ موت نام ہے روح کا بدن سے تعلق ختم ہونے کا اور انسان کا دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کرنے کا۔ ترقی ےافتہ سائنس بھی روح کو سمجھنے سے قاصر ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کرےم مےں واضح طور پر اعلان فردےا ہے: روح صرف اللہ کا حکم ہے۔ ہمےں بھی اےک روز مرنا ہے اور اپنے خالق، مالک اور رازق کائنات کے سامنے اپنی دنےاوی زندگی کا حساب دےنا ہے۔ لہذا ہم اس موقع پر ےہ عہدوپےمان کرےں کہ اللہ کے احکام کے مطابق زندگی گزارےں گے اور جھوٹ، سودو رشوت خوری، دھوکہ دھڑی، شراب نوشی، عےاشی اور بے حےائی جےسی معاشرہ کی عام برائےوں کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرےں گے۔ نےز سچائی، امانت داری، معاملات مےں صفائی، تعلےم، عمدہ اخلاق، بڑوں کا احترام،چھوٹوں پر شفقت، پڑوسیوں کا خےال، دوسروں کے حقوق کی ادائےگی اور اپنی ذمہ داریوں کو بحسن خوبی انجام دےنا جےسی خوبےوں کو اپنی زندگی مےں لاکر اپنے معاشرہ کو خوب سے خوب تر بنائےں گے تاکہ ہم اس دنےاوی زندگی مےں بھی سرخ روئی حاصل کرےں اور اور مرنے کے بعد ہمےشہ ہمےشہ کی زندگی مےں اےسی کامےابی وکامرانی حاصل کرےں کہ جس کے بعد ناکامی نہےں۔
خالق کائنات اللہ رب العزت نے ہر جاندار کے لئے موت کا وقت اور جگہ متعےن کردی ہے اور موت اےسی شی ہے کہ دنےا کا کوئی بھی شخص خواہ وہ کافر ےا فاجر حتی کہ دہرےہ ہی کےوں نہ ہو، موت کو ےقےنی مانتا ہے۔ اور اگر کوئی موت پر شک وشبہ بھی کرے تو اسے بے وقوفوں کی فہرست مےں شمار کےا جاتا ہے کےونکہ بڑی بڑی مادی طاقتےں اور مشرق سے مغرب تک قائم ساری حکومتےں موت کے سامنے عاجز وبے بس ہوجاتی ہےں۔ موت بندوں کو ہلاک کرنے والی، بچوں کو ےتےم کرنے والی، عورتوں کو بےوہ بنانے والی، دنےاوی ظاہری سہاروں کو ختم کرنے والی، دلوں کو تھرانے والی، آنکھوں کو رلانے والی،بستےوں کو اجاڑنے والی، جماعتوں کو منتشر کرنے والی، لذتوں کو ختم کرنے والی، امےدوں پر پانی پھےرنے والی، ظالموں کو جہنم کی وادےوں مےں جھلسانے والی اور متقےوں کو جنت کے بالاخانوں تک پہنچانے والی شی ہے۔ موت نہ چھوٹوں پر شفقت کرتی ہے، نہ بڑوں کی تعظےم کرتی ہے، نہ دنےاوی چودھرےوں سے ڈرتی ہے، نہ بادشاہوں سے ان کے دربار مےں حاضری کی اجازت لےتی ہے۔ جب بھی حکم خداوندی ہوتا ہے تو تمام دنےاوی رکاوٹوں کو چےرتی اورپھاڑتی ہوئی مطلوب کو حاصل کرلےتی ہے۔ موت نہ نےک صالح لوگوں پر رحم کھاتی ہے، نہ ظالموں کو بخشتی ہے۔ اللہ کے راستہ مےں جہاد کرنے والوں کو بھی موت اپنے گلے لگا لےتی ہے اور گھر بےٹھنے والوں کو بھی موت نہےں چھوڑتی۔ اخروی ابدی زندگی کو دنےاوی فانی زندگی پر ترجےح دےنے والے بھی موت کی آغوش مےں سوجاتے ہےں، اور دنےا کے دےوانوں کو بھی موت اپنا لقمہ بنالےتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام کی متعدد آےات مےں موت اور اس کی حقےقت کو بےان کےا ہے۔ جن مےں سے چند آےات پےش خدمت ہےں:
ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے، اور تم سب کو (تمہارے اعمال کے) پورے پورے بدلے قےامت ہی کے دن ملےں گے۔ پھر جس کو دوزخ سے بچا لےا گےا اور جنت مےں داخل کردےا گےا، وہ صحےح معنی مےں کامےاب ہوگےا، اور ےہ دنےاوی زندگی تو (جنت کے مقابلے مےں) دھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہےں۔ (سورہ¿ آل عمران ۵۸۱) اس آےت مےں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی کامےابی کا معےار ذکر کےا ہے اور وہ ےہ ہے کہ اس حال مےں ہماری موت آئے کہ ہمارے لئے جہنم سے چھٹکارے اور دخولِ جنت کا فےصلہ ہوچکا ہو۔۔۔ اس زمےن مےں جو کوئی ہے، فنا ہونے والا ہے۔ اور (صرف) تمہارے پروردگار کی جلال والی اور فضل وکرم والی ذات باقی رہے گی۔ (سورہ¿ رحمن ۶۲۔۷۲) ۔۔۔۔ ہر چےز فنا ہونے والی ہے، سوائے اللہ کی ذات کے۔ حکومت اسی کی ہے، اور اُسی کی طرف تمہےں لوٹ کرجاناہے۔ (سورہ¿ القصص ۸۸) ۔۔۔۔ ( اے پےغمبر!) تم سے پہلے بھی ہمےشہ زندہ رہنا ہم نے کسی فرد بشر کے لئے طے نہےں کےا۔ چنانچہ اگر تمہارا انتقال ہوگےا تو کےا ےہ لوگ اےسے ہےں جو ہمےشہ زندہ رہےں؟ ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ اور ہم تمہےں آزمانے کے لئے بری اور اچھی حالتوں مےں مبتلا کرتے ہےں اور تم سب ہمارے ہی پاس لوٹ کر آو¿گے۔ (سورہ¿ الانبےاء ۴۳ ۔ ۵۳) ۔۔۔ تم جہاں بھی ہوگے(اےک نہ اےک دن) موت تمہےں جا پکڑے گی۔ چاہے تم مضبوط قلعوں مےں ہی کےوں نہ رہ رہے ہو۔ (سورہ¿ النساء ۸۷) ۔۔۔۔ (اے نبی!) آپ کہہ دےجئے کہ جس موت سے تم بھاگتے ہو، وہ تم سے آملنے والی ہے۔ ےعنی وقت آنے پر موت تمہےں ضرور اچک لے گی۔ (سورہ الجمعہ ۸) ۔۔۔۔ چنانچہ جب اُن کی مقررہ مےعاد آجاتی ہے تو وہ گھڑی بھر بھی اُس سے آگے پےچھے نہےں ہوسکتے۔ (سورہ¿ الاعراف ۴۳) ۔۔۔ اور نہ کسی متنفس کو ےہ پتہ ہے کہ زمےن کے کس حصہ مےں اُسے موت آئے گی۔ (سورہ لقمان ۴۳) ان مذکورہ آےات سے معلوم ہوا کہ ہر شخص کا مرنا ےقےنی ہے لےکن موت کا وقت اور جگہ سوائے اللہ کی ذات کے کسی بشر کو معلوم نہےں۔ چنانچہ بعض بچپن مےں، توبعض عنفوان شباب مےں اور بعض ادھےڑ عمر مےں، جبکہ باقی بڑھاپے مےں داعی اجل کو لبےک کہہ جاتے ہےں۔ بعض صحت مند تندرست نوجوان سواری پر سوار ہوتے ہےں لےکن انہےں نہےں معلوم کہ وہ موت کی سواری پر سوار ہوچکے ہےں۔
ےہی دنےاوی فانی وقتی زندگی‘ اخروی ابدی زندگی کی تےاری کے لئے پہلا اور آخری موقع ہے، جےسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: ےہاں تک کہ جب ان مےں سے کسی پر موت آکھڑی ہوگی تو وہ کہے گا کہ اے مےرے پروردگار! مجھے واپس بھےج دےجئے تاکہ جس دنےا کو مےں چھوڑ آےا ہوں، اس مےں جاکر نےک اعمال کروں۔ ہرگز نہےں، ےہ تو بس اےک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے، اب ان سب (مرنے والوں) کے پےچھے اےک برزخ ہے جب تک کہ وہ دوبارہ اٹھائے جائےں۔ (سورہ¿ المو¿منون ۹۹ و ۰۰۱) لہذا ضروری ہے کہ ہم افسوس کرنے ےا خون کے آنسو بہانے سے قبل‘ اس دنےاوی فانی زندگی مےں ہی ا پنے مولاکو راضی کرنے کی کوشش کرےں تاکہ ہماری روح ہمارے بدن سے اس حال مےں جُدا ہو کہ ہمارا خالق و مالک و رازق ہم سے راضی ہو۔ آج ہم صرف فانی زندگی کے عارضی مقاصد کو سامنے رکھ کر دنےاوی زندگی گزارتے ہےں اور دنےاوی زندگی کے عےش وآرام اور وقتی عزت کے لئے جد وجہد کرتے ہےں، لہذا آئےے دنےا کو دنےا کے پےدا کرنے والے کی ہی زبانی سمجھےں: اور ےہ دنےاوی زندگی تو (جنت کے مقابلے مےں) دھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہےں۔ (سورہ¿ آل عمران ۵۸۱) دنےاوی زندگی کا فائدہ آخرت کے مقابلے مےں کچھ بھی نہےں، مگر بہت تھوڑا۔ (سورہ¿ التوبہ ۸۳) کہہ دو کہ دنےا کا فائدہ تو تھوڑا سا ہے۔ اور جو شخص تقویٰ اختےار کرے اس کے لئے آخرت کہےں زےادہ بہتر ہے۔ اور تم پر ذرہ برابر بھی ظلم نہےں ہوگا۔ (سورہ¿ النساء۷۷) اور ےہ دنےاوی زندگی کھےل کود کے سوا کچھ بھی نہےں، اور حقےقت ےہ ہے کہ دار آخرت ہی اصل زندگی ہے، اگر ےہ لوگ جانتے ہوتے۔ (سورہ العنکبوت ۴۶) لوگوں کے لئے اُن چےزوں کی محبت خوشنما بنا دی گئی ہے جو اُن کی نفسانی خواہش کے مطابق ہوتی ہے، ےعنی عورتےں، بچے، سونے چاندی کے لگے ہوئے ڈھےر، نشان لگائے ہوئے گھوڑے، چوپائے اور کھےتےاں ےہ سب دنےاوی زندگی کا سامان ہےں۔ (سورہ¿ آل عمران ۴۱) اس کا مطلب ہر گز ےہ نہےں کہ ہم دنےاوی زندگی کو نظر انداز کرکے رہبانےت اختےار کرلےں بلکہ مقصد ےہ ہے کہ اللہ کے خوف کے ساتھ دنےاوی فانی زندگی گزارےں اور اخروی زندگی کی کامےابی کو ہر حال مےں ترجےح دےں۔
الحمد للہ! ہم ابھی بقےد حےات ہےں اور موت کا فرشتہ ہماری جان نکالنے کے لئے کب آجائے، معلوم نہےں۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرماےا: پانچ امور سے قبل پانچ امور سے فائدہ اٹھاےا جائے۔ بڑھاپہ آنے سے قبل جوانی سے ۔ مرنے سے قبل زندگی سے۔ کام آنے سے قبل خالی وقت سے۔ غربت آنے سے قبل مال سے۔ بےماری سے قبل صحت سے۔۔۔۔ لہذا ہمےں توبہ کرکے نےک اعمال کی طرف سبقت کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اور اے مومنو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم کامےاب ہوجاو¿۔ (سورہ¿ النور ۱۳) اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: کہہ دو کہ: “اے مےرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زےادتی کر رکھی ہے، ےعنی گناہ کررکھے ہےں، اللہ کی رحمت سے ماےوس نہ ہو۔ ےقےن جانو اللہ سارے کے سارے گناہ معاف کردےتا ہے۔ ےقےنا وہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے”۔ (سورہ الزمر ۳۵) قےامت کے دن کسی انسان کا قدم اللہ تعالیٰ کے سامنے سے ہٹ نہےں سکتا ےہاں تک کہ وہ پانچ سوالات کا جواب دےدے: زندگی کہاں گزاری؟ جوانی کہاں لگائی؟ مال کہاں سے کماےا؟ ےعنی حصول ِ مال کے اسباب حلال تھے ےا حرام۔ مال کہاں خرچ کےا؟ ےعنی مال سے متعلق اللہ اور بندوں کے حقوق ادا کئے ےا نہےں۔ علم پر کتنا عمل کےا؟
حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرماےا: لذتوں کو ختم کرنے والی موت کو کثرت سے ےاد کےا کرو۔ (ترمذی) موت کو ےاد کرنے کے چند اسباب ےعنی وہ اعمال جن سے موت ےاد آتی ہے، ےہ ہےں: ۱) وقتاً فوقتاً قبرستان جانا ۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرماےا کہ قبروں کی زےارت کےا کرو، اس سے تمہےں آخرت ےاد رہے گی۔ ۲) مُردوں کو غسل دےنا ےا اُن کے غسل کے وقت حاضر رہنا۔ ۳) اگر موقع مےسر ہو تو انتقال کرنے والے شخص کے آخری لمحات دےکھنااور اُن کو کلمہ شہادت کی تلقےن کرنا۔۴) جنازہ مےں شرکت کرنا۔۵) بےماروں اور بوڑھوں سے ملاقات کرنا۔۶) آندھی، طوفان اور زلزلے کے وقت انسانوں کی کمزوری اور اللہ تعالیٰ کی طاقت وقوت کا اعتراف کرنا۔۷) پہلی امتوں کے واقعات پڑھنا۔
موت کو کثرت سے ےاد کرنے والوں کو اللہ کی جانب سے مذکورہ اعمال کی توفےق ہوتی ہے:۱) گناہوں سے توبہ نصےب ہوتی ہے۔۲) گناہوں سے حفاظت ہوتی ہے۔۳) سخت دل نرم ہوجاتا ہے اور وقتاً فوقتاً آنکھوں سے آنسو بہہ جاتے ہےں۔۴) دل قناعت پسند بن جاتا ہے۔۵) عبادت مےں نشاط پےدا ہوتی ہے۔۶) بہت ساری دشوارےاں آسان ہوجاتی ہےں۔۷) لمبی لمبی امےدےں اور امنگےں کم ہوجاتی ہے۔۸) تواضع اور انکساری پےدا ہوتی ہے جس سے انسان دوسروں پر ظلم کرنے اور کبر کرنے سے محفوظ رہتا ہے۔۹) اخروی زندگی ےاد رہتی ہے، جس سے اللہ تعالیٰ کا خوف پےدا ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو مرنے سے قبل مرنے کی تےاری کرنے کی توفےق عطا فرمائے، اور ہمےں دونوں جہاں کی کامےابی وکامرانی سے نوازے، آمےن۔
ڈاکٹر محمد نجےب قاسمی سنبھلی

Check Also

Guangzhou Bases its Further Development on Green Innovation

Guangzhou Bases its Further Development on Green Innovation GUANGZHOU, China, Dec. 16, 2018 /Xinhua-AsiaNet/Knowledge Bylanes– ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *