Home / کالم / یوم ختم نبوت اورمیاں عاطف کی تقرری

یوم ختم نبوت اورمیاں عاطف کی تقرری

 

 

یوم ختم نبوت اورمیاں عاطف کی تقرری
عمرفاروق /آگہی
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ جن لوگوں کی اسمبلی میں ایک سیٹ بھی نہیں وہ ہمیں بتا رہے ہیں کہ اسلام کیا ہے۔کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کے دوران سوال کے جواب میں قادیانی مذہب سے تعلق رکھنے والے عاطف میاں کی اقتصادی مشاورتی کونسل میں شمولیت پر اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ہم نے دو کروڑ ووٹ لیے ہیں، اور وہ لوگ ہمیں ڈکٹیٹ کرنا چاہتے ہیں جنہیں 10 لاکھ ووٹ ملے یا جن کی ایک سیٹ بھی نہیں ہے، وہ ہمیں بتائیں گے کہ اسلام کیا ہے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اپنی تمام اقلیتوں کو بحیرہ عرب میں ڈبونا ہے تو یہ اس کا اپنا خیال ہوگا، حکومت کی ایسی کوئی سوچ نہیں، اس طرح کی باتوں سے ہم نے دنیا میں مذاق بنوایا ہے، ہمارے پاسپورٹ سے لوگ ڈرتے ہیں، ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہ آگے جانا ہے یا پسماندہ ملک بننا ہے، اس ملک میں اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت ہوگی اور ریاست فیصلہ کرے گی کہ ملک کیسے چلنا ہے۔
وفاقی وزیراطلاعات نے یہ کہاکہ ہم نے دوکروڑووٹ لیے ہیں اورجنھوں نے دس لاکھ ووٹ بھی نہیں لیے یاایک سیٹ بھی نہیں ہے وہ ہمیں بتائیں گے کہ اسلام کیاہے ؟ہم کہتے ہیں کہ فوادچوہدری دس لاکھ ووٹ لینے والے یاایک سیٹ بھی حاصل نہ کرنے والوں کی بات نہ مانیں مگرجمہوری حکومت کے فیصلوں کوتونہ جھٹلائیں اوران فیصلوں کوتوتسلیم کریں جوپارلیمنٹ نے متفقہ طورپرکیے ہیں ۔پوری قوم سات ستمبرکویوم ختم نبوت کے طوربناتی ہے کیوں کہ ملک کی منتخب جمہوری حکومت نے متفقہ طور پر 7 ستمبر1974 کو قادیانیوںکو غیر مسلم اقلیت قرار دیا اورآئین پاکستان کی شق 160(2) اور 260(3) میں اس کا اندراج کر دیا۔ جمہوری نظامِ حکومت میں کوئی بھی اہم فیصلہ ہمیشہ اکثریتی رائے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے لیکن یہ دنیا کی تاریخ کا واحد واقعہ ہے کہ حکومت نے فیصلہ کرنے سے پہلے قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو پارلیمنٹ کے سامنے اپنا نکتہ نظر پیش کرنے کے لیے بلایا۔ اسمبلی میں اس کے بیان کے بعد حکومت کی طرف سے اٹارنی جنرل جناب یحیی بختیار نے قادیانی عقائد کے حوالے سے اس پر جرح کی، جس کے جواب میں مرزا ناصر نے نہ صرف مذکورہ بالا تمام عقائد و نظریات کا برملا اعتراف کیا بلکہ باطل تاویلات کے ذریعے ان کا دفاع بھی کیامگروہ اپنااسلام ثابت نہیں کرسکے ۔
جہاں تک اقلیتوں کے حقوق کی بات ہے تواسلام اقلیتوں کاسب سے بڑامحافظ ہے پاکستان کی اسمبلی ،سینٹ ،عدلیہ ،فوج اوردیگراداروں میں اقلیتیں اپنابھرپوکرداراداکررہی ہیں اورکوئی بھی ان کے کردارکامخالف نہیں مگربدقسمتی سے ہمارے پڑھے لکھے دانشورمعاملے میں گڈمڈکررہے ہیں قادیانی دیگراقلیتوں کی طرح اقلیت نہیں ہیں کیوں کہ دیگراقلیتیں ہمارے آئین کوتسلیم کرتی ہیں اورآئین کے دائرے میں رہ کراپنے فرائض سرانجام دیتی ہیں جبکہ قادیاینوں کامعاملہ اس کے برعکس ہے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ قادیانی پارلیمنٹ کے اس متفقہ فیصلے کو تسلیم کرنے سے یکسر انکاری ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا کی کوئی حکومت ،پارلیمنٹ یا کوئی اور ادارہ انہیں ان کے عقائد کی بنا پر غیر مسلم قرار نہیں دے سکتا، بلکہ الٹا وہ مسلمانوں کو کافر اور خود کو مسلمان کہتے ہیں اور آئین میں دی گئی اپنی حیثیت تسلیم نہیں کرتے۔
قادیانی پوری دنیا میں شور مچاتے ہیں کہ پاکستان میں ہم پر ظلم ہو رہا ہے۔ ہمارے حقوق غصب کیے جارہے ہیں۔ ہمیں آزادی اظہار نہیں ہے۔ وہ کبھی اقوام متحدہ سے اپیلیں کرتے ہیں، کبھی یہودیوں اورعیسائیوں سے دباﺅ ڈلواتے ہیں۔ حالانکہ ہم بڑی سادہ سی جائز بات کہتے ہیں کہ تم مرزا قادیانی کو محمد رسول اللہ نہ کہو۔ کلمہ طیبہ مسلمانوں کا ہے، تم اس پر قبضہ نہ کرو یعنی شراب پر زم زم کا لیبل نہ لگاﺅ لیکن قادیانی اس سے باز نہیں آتے بلکہ الٹا اسلام کے نام پر اپنے خود ساختہ عقائد و نظریات کی تبلیغ و تشہیر کرتے ہیں۔
قادیانیوں کو شعائر اسلام کے استعمال اور اس کی توہین سے روکنے کے لیے 26 اپریل 1984 کو حکومت پاکستان نے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا، جس کی رو سے قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتے اور اپنے مذہب کے لیے اسلامی شعائرو اصطلاحات استعمال نہیں کر سکتے۔ اس سلسلہ میں تعزیراتِ پاکستان میں ایک نئی فوجداری دفعہ298/C کا اضافہ کیا گیا۔ ملاحظہ فرمائیں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298/C : قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو بلا واسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر موسوم کرے یا منسوب کرے یا الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کے مذہبی احساسات کو مجروح کرے، کو کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لیے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔
قادیانیوں نے اس پابندی کو وفاقی شرعی عدالت، لاہور ہائی کورٹ، کوئٹہ ہائی کورٹ وغیرہ میں چیلنج کیا، جہاں انھیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ بالآخر قادیانیوں نے پوری تیاری کے ساتھ سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل دائر کی کہ انھیں شعائر اسلامی استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل بنچ جو جسٹس عبدالقدیر چودھری ، جسٹس شفیع الرحمن، جسٹس محمد افضل لون ، جسٹس سلیم اختر ، جسٹس ولی محمد خاں پر مشتمل تھا، نے اس کیس کی مفصل سماعت کی۔ دونوں اطراف سے دلائل و براہین دیے گئے۔ اصل کتابوں سے متنازع ترین حوالہ جات پیش کیے گئے۔ یہ بھی یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے یہ جج صاحبان کسی دینی مدرسہ یا اسلامی دارالعلوم کے مفتی صاحبان نہیں تھے بلکہ انگریزی قانون پڑھے ہوئے تھے۔ ان کا کام آئین و قانون کے تحت انصاف مہیا کرنا ہوتا ہے۔ فاضل جج صاحبان نے جب قادیانی عقائد پر نظر دوڑائی تو وہ لرز کر رہ گئے۔ فاضل جج صاحبان کا کہنا تھا کہ قادیانی اسلام کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں جبکہ دھوکہ دینا کسی کا بنیادی حق نہیں ہے اور نہ ہی اس سے کسی کے حقوق سلب ہوتے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل بنچ کے تاریخی فیصلہ ظہیرالدین بنام سرکار، (1993 SCMR 1718) کی رو سے کوئی قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہلوا سکتا اور نہ ہی اپنے مذہب کی تبلیغ کر سکتا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں وہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-C اور 298-C کے تحت سزائے موت کا مستوجب ہے۔
اس کے باوجود قادیانی آئین، قانون اور اعلی عدالتی فیصلوں کا مذاق اڑاتے ہوئے خود کو مسلمان کہلواتے، اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے، گستاخانہ لٹریچر تقسیم کرتے، شعائر اسلامی کا تمسخر اڑاتے اور اسلامی مقدس شخصیات و مقامات کی توہین کرتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہماری ہرحکومت قادیانیوں کونوازنے کے لیے اپنے آئین ،قانون اورعقیدہ ختم نبوت کوبھی بھول جاتی ہے نئے پاکستان کی نئی حکمرانوں نے بھی سابقہ حکومت کے وطیرے کواپناتے ہوئے اقتصادی مشاورتی کونسل میں میاں عاطف نامی قادیانی کوشامل کیاہے جس پرپوراملک سراپااحتجاج ہے مگرحکومت کے ترجمان اپنی اس غلطی کودرست کرنے کی بجائے اس کے دفاع میں لگے ہوئے ہیں ۔
لوگ تونافرمانی پراپنی قابل ،باصلاحیت اولادکوعاق کردیتے ہیں اورجائیدادکاحصہ دینے سے انکارکردیتے ہیں پھرجوگروہ یاشخص جس کے بارے میں آپ کو یقین ہے کہ وہ آپ کی دکان یا ادارے سے نفرت کرتا ہے – کیا آپ اس بندے کو اپنے ادارے کا ملازم رکھ سکیں گے ؟

Check Also

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال

﴾شاعر مشرق علامہ محمد اقبال﴿ رضوان اللہ پشاوری rizwan.peshawarii@gmail.com علامہ محمد اقبال دنیا میں ایک ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *