تازہ ترین خبریں
Home / کالم / یوم نیلا بٹ تحریک آزادی کا سنگ میل

یوم نیلا بٹ تحریک آزادی کا سنگ میل

 

 

یوم نیلا بٹ تحریک آزادی کا سنگ میل
یوم نیلا بٹ کی پروقار تقریب عید کی تعطیلات کی وجہ سے23 اگست کی بجائے27اگست کو منائی گئی، سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کی زیرقیادت مسلم کانفرنسی زعماءکافی دنوں سے تیاریوں میں مگن تھے ، کارنر میٹنگز، موٹرسائیکل ریلیاں اور دیگر روابط اور اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے سے لوگوں کو اس دن کی اہمیت سے روشناس کرانے کا سلسلہ بھی کافی دنوں سے جاری تھا، 27 اگست کو آزادکشمیر بھر سے قافلے دھیرکوٹ پہنچنا شروع ہو گئے، بھمبر سے مرزا شفیق جرال، میرپور سے قیوم قمر، کوٹلی سے ملک نواز، پلندری سے سردار الطاف، راولاکوٹ سے ، سردار صغیر چغتائی ، ,باغ سے راجہ یٰسین ،مظفرآباد سے ، دیوان چغتائی، راجہ ثاقب مجید، ممبرکشمیر کونسل سردار مختیار عباسی،ہٹیاں سے عنصر پیرزادہ، نیلم سے خواجہ شفیق، راولپنڈی سے سابق مشیر سردار رازق ایڈووکیٹ، جبکہ یوسف نسیم کی قیادت میں حریت کانفرنس کا قافلہ بھی نیلا بٹ پہنچا۔،راجہ آفتاب اکرم،سردار خضر حیات،راجہ خورشید،پلندری سے سردار عابد رزاق ،یوم نیلا بٹ میں شرکت کرنے پہنچی تھیں۔
26اگست رات کومحفل کا آغاز ہواقوالی کی محل اور محفل نعت ۔ بعد ازاں نماز مغرب کے بعد محفل مشاعرہ کا اہتمام کیا گیاجس میں کشمیر اور پاکستان بھر سے شعراءکرام نے اپنے اشعار سے شرکاءکو لطف اندوز کیا۔ جبکہ نماز عشاءکے بعد محفل سماءکا بھی اہتمام کیا گیا جس میں معروف قوال حضرات نے سماں باندھ دیا، قوالی کی تقریب رات 11 بجے تک جاری رہی جس کے بعد 2000سے زائد افراد میں لنگر تقسیم کیا گیا ۔
27 اگست صبح 9 بجے قافلے نیلا بٹ پہنچنا شروع ہو ئے اور ٹھیک 9/15 بجے صدر آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان سٹیج پر براجمان ہوئے۔ دن 10بجے تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد مقامی رہنماﺅں نے یوم نیلا بٹ کی اہمیت اور مجاہد اوّل سردار عبدالقیوم خان کی تحریک آزادی کشمیر کے لئے خدمات پر روشنی ڈالی۔مرزا محمد شفیق جرال ، راجہ یٰسین،راجہ ثاقب مجید، دیوان چغتائی ،سردار صغیر چغتائی، ممبرکشمیر کونسل سردار مختیار عباسی ،سردار رازق ایڈووکیٹ،، ملک نواز،میجر نصراللہ، یوسف نسیم،راجہ آفتاب اکرم،سردار خضر حیات،راجہ خورشید،خواجہ شفیق،چوہدری خضر حےات ،قیوم قمر،عنصر پیرزادہ ،سردار عابد رزاق،سیدہ نائلہ گردیزی ،راجہ منیر،عنصر شہزاد عباسی سمعیہ ساجد راجہ، و دیگرنے خطاب کیا۔
نیلا بٹ سے چلنے والی تحریک آزادی کشمیر آخری اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔سردار محمد عبدالقیوم خان مرحوم کی جلائی ہوئی شمع کو ہر صورت روشن رکھیں گے،تقریب سے سردار عتیق احمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ۔انہوں نے کہا کہ سردار عبدالقیوم اگر نیلا بٹ سے تحریک آزادی کا آغاز نہ کرتے تو آج اسلام آباد، راولپنڈی، گجرخان ، کہوٹہ محفوظ نہ ہوتے اور بھارتی توپوں کے نشانے پر ہوتے۔ ،
مجاہد اوّل سردار محمد عبدالقیوم خان اور تحریک آزادی کشمیر ایک ہی تصویر کے دو رخ قرار دیئے جائیں تو غلط نہ ہوگا، کیونکہ تقسیم برصغیر کے وقت جمو ں و کشمیر ایک الگ نیم خودمختار حکومت تھی اور اس پر مہاراجہ خاندان ایک صدی سے حکمران چلا آرہا تھا جس کے مظالم کی داستانیں دنیا بھر میں مشہور تھیں جسکا لفظ قانون کا درجہ رکھتا تھا اور جو جب چاہتا جیسا چاہتا قانون بنا کر مسلمانوں پر مظالم کے دروازے کھول دیتا تھا۔ اسکے اسی قانون کو دیکھ لیجئے کہ 1930 کی دھائی میں جموں و کشمیر میں مسلمانوں کے لئے مساجد میں اذان دینے، خطبہ دینے سمیت کئی مذہبی پابندیاں عائد کی گئی تھیں جس کے خلاف جب صدائے احتجاج بلند ہوئی تو سری نگر جیل کے باہر مسلم نوجوانوں نے صرف ایک اذان مکمل کرنے کے لئے 22 جانیں قربان کر دیں اور پہلے سے آخری فقرے تک 22 نوجوان تکمیل اذان پر قربان ہوگئے۔ مابعد آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے نام سے جموں و کشمیر میں پہلی سیاسی جماعت معرض وجود میں آئی اور رعایا کے بڑھتے ہوئے احتجاج کو روکنے کے لئے مہاراجہ اپنے قوانین میں نرمی کرتا چلا گیا۔ 1947 کو تقسیم برصغیر کے وقت مہاراجہ پر جموں و کشمیر کے مسلمانوں کا شدید دباﺅ تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کر کے پاکستان میں اپنی ریاست کو شامل کر لے مگر مہاراجہ اپنی ضد پر اڑا رہا اور باالآخر جموں و کشمیر کے مسلمانوں نے ڈوگرہ افواج کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کردیا۔ 1947 میں جبکہ پورا ہندوستان فسادات کی لپیٹ میں تھا جموں و کشمیر کے عوام اپنی لیڈرشپ کی جانب دیکھ رہی تھے کہ لیڈرشپ فیصلہ کرے ، آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے مسلمانوں کی نمائندہ جماعت نے الحاق پاکستان کا اعلان کردیا مگر مہاراجہ نے اس اعلان کو بھی ماننے سے انکار کر دیا اور بھارت کی جانب جھکاﺅ دیکھتے ہوئے مسلمانان جموں و کشمیر میں شدید بے چینی پائی جارہی تھی۔ ایسے میں نیلہ بٹ کے مقام سے ایک کشمیری نوجوان عبدالقیوم نے پہلا فائر کیا ۔ ایک گولی نے میرپور سے سری نگر تک فضاﺅں کو اللہ اکبر کے نعرے سے معطر کر دیا اور وہی ایک گولی آج کے آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے قیام کی بنیاد بنی۔ نیلہ بٹ کے مقام سے اعلان جہاد کشمیر ہوا تو انتہائی مختصر عرصہ میں یہ مسلح جدوجہد پورے جموں و کشمیر میں پھیل گئی۔
سردار عتیق احمد خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ مسلم کانفرنس کو توڑنے والے اپنے انجام کو پہنچ گئے۔عمران خان پہلے کشمیر پھر تجارت کی کشمیر پالیسی کے ساتھ کھڑے ہیں۔مسلم کانفرنس ختم نبوت کے قانون کی پہردار ہے۔پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔عمران خان نے اپنے پہلے خطاب میں کشمیر کا زکر کیا اور کشمیر پر پالیسی دی جس کی ہم حمایت کرتے ہیں۔صدر آزاد کشمیر نے جس طرح مسئلہ کشمیر کو جس احسن طرےقے سے اجاگر کیا ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ہم کشمیری قوم مسلح افواج پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔
صدر ریاست سردار مسعود خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ مسلم کانفرنس کی مظبوطی کشمیر کی مظبوطی ہے۔آزاد کشمیر مسلم کانفرنس نے آزاد کرایا اس کے تشخص پر آنچ پر آنچ نہیں آنی چاہےے۔سردار عبدالقیوم خان نے 23اگست کو پہلی گولی چلا کر تحرےک کا آغاز کیا۔غازی ملت سردار ابراھیم خان اور سردار عبدالقیوم خان جےسے بزرگوں کی کاوشوں کا نتےجہ ہے کہ 19جولائی 1947کو سری نگر کے مقام پر غازی ملت سردار محمد ابراھیم کی رہائش گاہ الحاق پاکستان کی قراردار منظور ہوئی
پوری تقریب میں سردار عثمان عتیق، سردار عرفان، عفان علی خان،عبیدعباسی،راجہ ولید عبداللہ،میجر نصراللہ، راجہ عبدالطیف حسرت،راجہ منیر،عنصر شہزاد عباسی و دیگر متحرک رہے ،جبکہ سردار عبدالقیوم خان جونیئر عوام کی توجہ کا مرکز رہے، سٹیج پر قائد اعظم محمد علی جناح، رئیس الاحرار چوہدری غلام عباس اور مجاہد اوّل سردار عبدالقیوم خان کی تصاویر نمایاں تھیں جبکہ سٹیج کے سامنے سردار غفار خان،قائد اعظم،مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان، کی گئیں تھی جبکہ دائیں اور بائیں جانب سردار عبدالقیوم خان کی پرانی تصاویر آویزاں کی گئیں تھیں۔۔جلسے ۔تقریب میں 20سے 25ہزار افراد نے شرکت کی۔
دعائیہ تقر یب کے اختتام تک لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا اور یہ مجاہد اول کی وفات کے بعد تیسرا پروگرام تھا جس کی وجہ سے کارکنوں کی آنکھوں میں ان کیلئے محبت عیاں تھی۔اکثریت اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور تقریب کے دوران روتے رہے۔آخر میں تقریب کی اختتامی دعا سردار عتقیق احمد خان نے خود دعا کروائی جس میں انہوں نے ملک پاکستان کی سلامتی ،مسلح افواج پاکستان کی کامیابی اور مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان کے درجات کیلئے بھی دعا کی۔

Check Also

‫شہر وجود پاتا ہے جب ہوائی اڈہ ابھرتا ہے: گوانگچو میں ورلڈ روٹس 2018ء شروع گوانگچو، چین، 17 ستمبر 2018ء/سنہوا-ایشیانی

‫شہر وجود پاتا ہے جب ہوائی اڈہ ابھرتا ہے: گوانگچو میں ورلڈ روٹس 2018ء شروع ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *