Home / کالم / یہ ایک کڑوی سچائی ہے

یہ ایک کڑوی سچائی ہے

کہ جمہوریت اور جمہور نواز حلقوں کی مہربانی اور بلا جواز پروپیگنڈے کی بدولت اس ملک میں فوج ہی سب سے طاقت ور فریق ہے اور سب سے زیادہ کمزور فریق بھی فوج ہی ہے۔
سب سے زیادہ دوست طبعیت ادارہ بھی فوج ہی ہے اور سب سے بڑا دشمن دار ادارہ بھی فوج ہی ہے۔
سب سے زیادہ چست اور قابل ذکر ادارہ بھی فوج ہے اور سب سے زیادہ سست اور نظرانداز ادارہ بھی فوج ہی ہے۔
اگر میں اس طرح کی مزید نشاندہیاں بھی کرنے پر جت جاؤں تو کتاب لکھی جاسکتی ہے۔
مگر میرا موضوعِ بحث اتنا طویل اور گنجان نہیں ہے تو میں موضوع سے پرے کے دلائل نظرانداز کرکے براہ راست موضوع پر آتا ہوں۔
زیادہ لمبی چوڑی تاریخ بھی نہیں کنگھالوں اور نہ ہی زیادہ فریقین کو شامل موضوع کروں گا۔
ہم بات شروع کرتے ہیں 2013 کے “شاندار اور شفاف” الیکشن سے۔
جب جناب عزت مآب میاں محمد نواز شریف صاحب تیسری دفعہ ایک بار پھر بھاری مینڈیٹ لیکر منتخب وزیرآعظم کی حیثیت سے پاکستان کی لولی لنگڑی جمہوریت کو لیکر گامزن سفر ہوئے۔
اس وقت سے لیکر انکی تیسری دفعہ ایک بار پھر شرمناک معزولی تک وہ واحد سیاستدان اور وزیرآعظم پاکستان ہیں جو دو اعزاز بیک وقت رکھتے ہیں۔
پہلاسیاستدان جو تین دفعہ وزیرآعظم منتخب ہوا اور تینوں دفعہ مدت مکمل کئیے بغیر تخت سے اتارا گیا۔
پہلی دفعہ صدر کے زیرعتاب معزول ہوا۔
دوسری دفعہ آرمی چیف کے زیرعتاب معزول ہوا۔
اور تیسری دفعہ عدلیہ کے زیرعتاب معزول ہوا۔
ہر دفعہ جن وجوہات سے مستعد اداروں کے عتاب کا شکار ہوا وہ شدید اور سنگین ترین کرپشن, ملک دشمنی, عوام دشمنی, جھوٹ, دغا, فریب, وعدہ خلافی اور جمہوری ڈکٹیٹر شپ یا شہنشاہیت تھیں۔
اگر ہوش مند افراد اس ملکی و قومی ناسور کو نہ الگ کرتے تو یہ انسان ضرور اپنے عہدے کی کامیاب تکمیل تک ملک اور عوام کا سودا کوڑیوں کے مول ہمارے دشمنوں سےطے کرکے اڑن چھو ہوجاتا۔
بہرحال یہ جناب فوج کو سیڑھی بناکر جمہوریت کی منازل طےکرتے ہوئے ناقابل پکڑ شخصیت بننے کے قریب تر تھے لیکن ہمیشہ کی طرح کسی زندہ ضمیر کی پکڑ سے بچ نہ پائے۔
اسی طرح سابق صدر آصف ذرداری کی مثال ہے مگر وہ مدت صدارت مکمل کرکے لولی لنگڑی لٹی ہوئی جمہوریت دیکر خود کو تاریخ میں زندہ کرگئے مگر کتنی لاشوں اور کس قدر لوٹ مار کے ساتھ یہ ایک الگ بحث ہے۔
ان مگرمچھوں کے درمیان چھوٹی مچھلیاں بھی ہیں جو انکے حلقہ اثر میں رہ کر ان سے بھی بڑی ضمیر فروش اور خون چوس مخلوق بن گئیں ہیں۔
اب متوقع مگر مچھوں کی لسٹ میں ٹاپ آف دی لسٹ بننے کی خواہش لیئے ایک اور صاحب تگ و دو کررہے ہیں جنہیں لوگ عمران خان کے نام سے جانتے ہیں۔
میں نے انہیں بھی مگر مچھ کسی وجہ سےکہا ہے۔
اب بات کرتے ہیں فوج کے کردار اور حقیقت کی۔
اوپر آغاز میں جو بات بیان کی اسکی روشنی میں اگر بات کی جائے تو فوج کا کردار ہمیشہ ہی تختہ مشق رہا ہے ہماری عوام اور جمہوریت نوازوں کے لیئے۔
اگر فوج نے سیاست اور جمہوریت کو لگام ڈالی تو آمریت کے طعنے ملے۔
اگر فوج نے سیاست اور جمہوریت سے کنارہ کشی اختیار کرلی تو بزدلی اور بکاؤ فوج کے طعنے ملے۔
اگر فوج کسی سازش میں شریک تو جمہوریت دشمن۔
اگر کسی سازش سے کنارہ کش تو بھی جمہوریت دشمن۔
ہنگامی حالات ہوں تو فوج کو بلاوا۔
سیاسی حالات خراب ہوں تو فوج کو بلاوا۔
اور تو اور اب نئے سیاسی جمہوروں اور بغل بچوں کے ذاتی حالات آؤٹ آف کنٹرول ہوں تو بھی وہ فوج کی طرف دیکھیں۔
سرحدوں پر محافظ فوج کیونکہ فوج اپنے کام کی تنخواہ جو لیتی ہے۔
دہشت گردی کی جنگ لڑے فوج کیونکہ سارا بجٹ فوج لیتی ہے۔
غرض جتنے منہ اتنے ہی اعتراض برائے اعتراض مل جائیں گے فوج پر اس احسان فراموش اور بے وفا عوام سے۔
کیا سیاستدانوں کی عقل گھاس چرنےجاتی ہے جو وہ کسی بھی معاملے میں بے قصور بن کر ایک طرف ہوجاتے ہیں اور سارا ملبہ فوج پر گرا کر زور وشور سے فوج مخالف کیمپین چلا کر عوام میں سرخرو ہوجاتے ہیں۔
خواہ وہ نواز شریف اور اسکی پارٹی کی فوج مخالف کیمپین ہو؟
خواہ وہ آصف ذراداری اور اسکی پارٹی کی فوج مخالف کیمپین ہو؟
خواہ وہ الطاف حسین اور اسکی پارٹی کی فوج مخالف کیمپین ہو؟
اور خواہ وہ عمران خان اور اسکی پارٹی کی فوج مخالف کیمپین ہو؟
دیگر کا حال بھی الگ نہیں ان سے مگر انکی اوقات محدود ہے تو انکی کیمپین بھی محدود مدت اور محدود دائرے کی ہوتی ہے۔
سب کا منشور ایک دوسرے کے چاہے جتنامرضی مخالف اور متضاد کیوں نہ ہو مگر فوج مخالف پالیسی سب کی مشترکہ ہے۔
یہ بات وقت اور حالات نے گاہے بگاہے ثابت کردی ہے۔
عوام بہترجانتی ہے اپنی فوج کو مگر جانتے بوجھتے ہوئے ان سیاسی ٹٹوؤں کی تقلید کرتی ہے تو دکھ ہوتا ہے, افسوس ہوتا ہے۔
اس سوال کاجواب کوئی دے سکے تو بہت احسان ہوگا کہ فوج ہی تختہ مشق کیوں؟
فوج اپنا کام بخوبی کررہی ہے تو وہ جوابدہ کیوں ہو سیاسی بے چینیوں اور تبدیلیوں کی۔
آخر فوج ہی کیوں ہر دفعہ نشانہ ہدف بنے عوام اور سیاستدانوں کا۔
پھر پوچھوں گا کہ فوج ہی تختہ مشق کیوں؟

Check Also

نعتِ رسول ﷺ اور علمائِ دےوبند

  نعتِ رسول ﷺ اور علمائِ دےوبند کائنات مےں سب سے افضل، انبےاءکے سردار اور ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *