تازہ ترین خبریں
Home / کالم / 14 اگست 1947 قربانیوں کی داستان

14 اگست 1947 قربانیوں کی داستان

 

14 اگست 1947 قربانیوں کی داستان
تحریر میاں نصیراحمد
پاکستان کرہ اراض کا واحد ایسا ملک ہے جس کی بنیاد ایک نظریہ پر رکھی گئی،بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا۔ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا بلکہ ہم ایسی
جائے پناہ چاہتے تھے جہاں ہم اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں،غور طلب بات یہ ہے کہ برسہا برس کی جدوجہد کے بعد ایک خدا، ایک رسولﷺ اور ایک قرآن پر ایمان رکھنے والوں نے ایک قائد کی قیادت میں پاکستان اس نظریہ کی بنیاد پر حاصل کیا کہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں، جس کا طرز زندگی، ثقافت اور دین سب سے الگ ہے۔ اس قوم کا کسی بھی دوسری قوم میں یا قومیت میں ضم ہونا قطعی طور پر ناممکن ہے۔ یہاںپربڑی غور طلب بات یہ ہے کہ لفظ آزادی ہر انسا ن کے لئے چاہے وہ امیر ہو یا غریب، مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا سب کے لیے ایک یکساں اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ ہر عاقل، بالغ اور باشعور انسان لفظ آزادی کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتا،پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجودمیں آیااور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم ایٹمی طاقت ہیںاوراسلامی ممالک میں واحدیہ صلاحیت صرف ہمارے ہی پاس ہے لہٰذا تمام بدخواہوں کی نظریں ہم پراور ہماری ایٹمی ٹیکنالوجی کی صلاحیت پر ہے آج وقت ہم سے تقاضہ کررہاہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھیںزبان،رنگ و نسل ،ذات پات سے بالاتر ہوکر سوچیں کیونکہ صرف تقویٰ و پرہیز گاری ہی بزرگی کی اصل علامت ہے یقینا آزادی بھی اللہ تبارک وتعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور یہ اس پاک ذات کا ہم پر بہت بڑافضل ہے کہ ا±س نے ہمیں یہ سر زمین عطاءفرمائی اوراللہ تعالیٰ نے اس پاک سرزمین کو معدنی وسائل سے مالامال فرمادیا یہاں پر بڑی غوربات یہ ہے کہ ہمیں چاہے ہم اپنے وطن کی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے کام کریں اور اس کے ساتھ مخلص ہوں اس بار جشن آزادی کے حوالے سے لوگوں میں جو ، یہ اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ وہ اپنے ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے واقعی کچھ کرنا چاہتے ہیںیہاں پر بڑی غور طلب بات یہ ہے کہ پروان چڑھنے والی دہشت گردی کے خلاف جس انداز میں لوگوں نے قربانیاں دیں اس سے ایک طرح سے پاکستان کی آزادی کے لیے لڑی جانے والی جنگ کی یاد تازہ ہو گئی اور اسی کی وجہ سے پاکستان پر امن عوام یوم آزادی کو اپنی آزادی کے طور پر بھی مناتے ہیں، پاکستان کا قیام محض ایک تاریخی حادثہ نہ تھا اور نہ ہی سیاسی فتح بلکہ یہ ہندوستان کے مسلمانوں کی اپنے جداگانہ تشخص کو برقرار رکھنے کی خواہش کا ثمر تھا درحقیقت قائد اعظم کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے پاکستان بنادیامسلم قیادت نے اپنی علیحدٰہ سیاسی جماعت قائم کرنے کا فیصلہ کیا چنانچہ مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا بے شمار مسلم رہنماو¿ں، مسلم اخبارات، علماء، مسلم ریاستوں کے سربراہوں، انجمنوں اور جماعتوں جیسے خلافت تحریک اور خاکسار نے اپنے اپنے دائرہ کار میں نہایت اہم کردار ادا کیا یہاں پر بڑی غور طلب بات یہ ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے 1929 ءمیں مطالبات کے 14 نکات پیش کر دیئے، کانگریس نے انہیں تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اس صورتحال کے پیش نظر 1930ءمیں آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس الہ آباد میں منعقد ہوا جس کی صدارت حضرت علامہ محمد اقبال نے کی، اس کانفرنس کا پس منظر بنگالب ہار، اڑیسہ بنارس آگرہ، بمبئی اور ہندوستان کے اکثر دوسرے علاقوں میں بڑے پیمانے پر مسلم کش فسادات میں ہندو بلوائیوں کے ہاتھوں بے گناہ مسلمانوں کے خون کی ہولی تھی، ہزاروں مردوں عورتوں اور بچوں کا قتل مسلمانوں کے محلے اور مکانات جلا کر لوگوں کو بے گھر کر دیا گیا تھا، اس ہندو مسلم تضادات اور دشمنی کھل کر سامنے آ گئی تھی۔ کانگریس کی ہٹ دھرمی بھی مسلسل جاری تھی یہاں بڑی غور طلب بات یہ ہے کہ پاکستان کا قیام محض ایک تاریخی حادثہ نہ تھا اور نہ ہی سیاسی فتح بلکہ یہ ہندوستان کے مسلمانوں کی اپنے جداگانہ تشخص کو برقرار رکھنے کی خواہش کا ثمر تھا درحقیقت قائد اعظم کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے پاکستان بنادیامسلم قیادت نے اپنی علیحدٰہ سیاسی جماعت قائم کرنے کا فیصلہ کیا چنانچہ مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا بے شمار مسلم رہنماو¿ں، مسلم اخبارات، علماء، مسلم ریاستوں کے سربراہوں، انجمنوں اور جماعتوں جیسے خلافت تحریک اور خاکسار نے اپنے اپنے دائرہ کار میں نہایت اہم کردار ادا کیا اور برطانوی حکومت اورکانگریس کے متنازعہ سلوک کا سامنا کیا مسلمانوں نے خود کو ایک اقلیت سمجھنا چھوڑدیا تھا اور اس موقف کی حمایت کرنے لگے کہ ہندوستان میں ہندو اور مسلمان دو قومیں آبا د ہیںمسلم لیگ ایک طاقتور سیاسی جماعت بن گئی تھی علامہ اقبال نے الہٰ آبا د میں میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے بجا طور پر کہا کہ مسلمانوں کا ہندوستان میں مسلم ہندوستان کے قیام کا مطالبہ مکمل طور پر انصاف پر مبنی ہے پاکستان کا نام چوہدری رحمت علی نے کیمبرج میں ایجا د کیا مسلم لیگ نے میں اپنا سالانہ اجلاس لاہور میں منعقد کیا اور قراردا د پاکستان منظور کی برصغیر کی تقسیم برطانیہ کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان دھماکہ خیز موضوع رہی عظیم مسلم رہنما قائد اعظم محمد علی جناح نے مذاکرات کے دوران مسلم لیگ کی قیادت کی اور برطانیہ اور کانگریس کو تقسیم پر آ ما دہ کرلیا اسطرح برطانوی پارلیمنٹ نے کو آزا دی ہند ایکٹ کی منظوری دی اور14 اگست1947ءکو ایک آزا د ریاست پاکستان وجود میں آئی یہ وہ دن ہے جب لوگ یہ عہد کرتے ہیں کہ شر پسند عناصر کو دوبارہ اپنی مٹی پر قدم نہیں جمانے دیں گے یہاں پر بڑی غور طلب بات یہ ہے کہ گاندھی نے کہا کہ میں یہ یقین سے کہتا ہوں کہ کوئی طاقت مسٹر جناح کو نہیں خرید سکتی۔ بی جے پی کے لیڈر جسونت سنگھ نے بھی اپنی کتاب میں محمد علی جناح کی عظیم قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہاکہ وہ صرف مسلمانوں کے نہیں بلکہ پورے ہندوستان کے رہنما تھی،قرارداد لاہور کو ہندوو¿ں نے طنزیہ طور پر قرارداد پاکستان کا نام دے دیا اور بے حد غم و غصے کا اظہار کیا لیکن مسلمانوں نے ان کی کوئی پروا نہ کی اور قائداعظم کی قیادت میں رواں دواں منزل مقصود کی طرف بڑھتے رہے انھیں یقین واثق تھا کہ منزل دور نہیں بالآخر قائد اعظم محمد علی جناح کی کوششوں کے نتیجے میں 14 اگست 1947 کو دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ ہم اس وطن کی ترقی اور خوشحالی کے لیے عملی کوششیںکریںپاکستان بیش بہا وسائل کی سرزمین ہے لیکن اس کو ایک مسلم قوم کے شایان شان ملک بنانے کیلئے ہمیں اپنی تمام توانائیوں کی ضرورت ہوگی“۔افسوس تو یہی ہے کہ بیش بہا وسائل کے باوجود پاکستان اج بھی زوال پذیر ہ امن اور خوشحالی قائداعظم کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول تھا افسوس ہم آزادی کی روح سے مسلسل بھٹک رہے ہیں یہاںپر بڑی غورطلب یہ ہے کہ قائداعظم نے خود حضور اکرمﷺ کے اسوہ حسنہ امانت، دیانت، صداقت اور شجاعت پر عمل کردکھایا یہ آزادی جو ہم نے لا تعداد قربانیوں کے برعکس حاصل کی ہم کو کسی تھال میں رکھ کرنہیں ملی اور نہ ہی یہ کسی مزاکرات کی میز کے گرد بیٹھ کر ملی بلکہ اس کے لئے ہمارے آباواجداد نے پانی کی طرح اپنا خون بھایا اپنی جانوں کی پرواہ نہ کی ہم نے اپنے بہنوں کی عزت و عصمت کی قربانیاں دیں، وہ ماں جو کبھی اپنے لخت جگر کے جسم میں سوئی کا زخم برداشت نہیں کر سکتی اس ماں نے اپنے لخت جگروں کے سینوں میں پیوست خنجر اور نیزے دیکھے اور مسکرا کر اس بےگوروکفن لاشوں کو اپنے رب کے حوالے کر دیا نئی نویلی دلہنیں جن کے لئے اانکا سہاگ اپنے پیدا کئے ہوے ماں باپ سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے نے اپنے سہاگ کو آزادی کے لئے ہنسی خوشی قربان کر دیا اور اف تک نہ کہا۔ یہ سب کچھ ہم اپنی نصل کو اس لئے بتاتے ہیں کہ وہ آزادی جس میں وہ آج سانس لے رہے ہیں کیسی کیسی قربانیوں کے بعد حاصل ہوئی اور آنے والے دنوں میں جب وہ ہماری جگہ لین تواس آزادی کی حفاظت کریں ،یہاںپر بڑی غور طلب بات ہے کہ14اگست کو جب جشن آزادی مناتے ہیں تو اس مبارک موقع پر ہم سب کو یہ سوچنا چاہیئے کہ ±اس نے اب تک پاکستان کے استحکام کے لئے کتنا کام کیا پاکستان دنیا میں ہماری آخری پناہ گاہ ہے اور اسلام کا ایک مضبوط قلعہ ہے اس کے تحفظ، ترقی اور بقاءکے لئے جہدوجہد ہر پاکستانی کا قومی و دینی فرض ہے اللہ تعالٰی ہم سب کو اپنی اپنی ذمّہ داریاں پوری کرنے کی توفیق عطا فرمائیے اور اللہ تعالیٰ ہمیں علم وعمل اوراخلاص کی دولت سے مالامال فرمائے اور پاکستان کومزیدترقیاں اورپاکستانی قوم کو ایسی ہزاروں آزادیاں منانے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین ہماراپیاراوطن قائم ہے اورانشائاللہ یہ قائم ہی رہے گا جشن آزادی مناتے ہوئے ہمیں یہ عہد کرناچاہیے ہم اپنے تن من دھن کی بازی لگاکر بھی اس وطن عزیز کوترقی کی راہ پر گامزن رکھیں گے اور ہمیشہ اپنے رہنما قائداعظم محمد علی جناح کے قول،ایمان، اتحاد اور تنظیم، کی پاسداری کریں گے آیئے آج مل کر یہ عہد کریں کہ کوئی عام ہو یا خاص امیر ہو یا غریب ہر شخص اپنے انفرادی مفادات پر ملک عزیز کے مفادات کو ترجیح دیں گے۔ آج ہم یہ عہد کریں کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کیلئے بڑی سے بڑی قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔ہم سب مل کر قانون کا احترام کریں گے ،آو عہد کریں،کہ ہم اس وطن عزیز کی ترقی اور بقاءکے لیے کوئی کسر نہ چھوڑیں گے۔ اگر پاکستان ہے تو ہم ہیں ہم زندہ قوم ہیں۔پائندہ قوم ہیں۔
میرے محبوب وطن تجھ پے اگر جان ہو نثار میں یہ سمجھو ں گا ٹیھکانے لگا سرمایہ تن

Check Also

کاش بیگم کلثوم نواز زندہ ہوتی “

      ”کاش بیگم کلثوم نواز زندہ ہوتی “ یہ بہادر بیٹی کیوں رو ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *