صحافت میں سیاست کیوں
تحریر:علی جان ای میل:

aj119922@gmail.com
الیکشن کا بگل بجتے ہی سب سیاستدان ایسے اپنے اپنے حلقوں کا رخ کرتے ہیں جیسے کوئی بھیڑیا اپنی بھوک مٹانے کیلئے شکار کی طرف رخ کرتا ہے ہرطرف الیکشن ہی کی بات ہورہی ہے چاہے وہ چھوٹی محفل ہویابڑی،ہوٹل ہویا نائی کی دکان سوشل میڈیا،پرنٹ میڈیاہویا الیکٹرونک میڈیا سب کو صرف الیکشن کی ہی پڑی ہوئی ہے ہرکوئی اپنے اپنے امیدواروں کوسپورٹ کررہا ہے جیساکہ آزادعدلیہ کسی بھی ملک کے وقاراورعزت میں اضافہ کرتی ہے اسی طرح کسی بھی ملک کا آزاد میڈیا کسی بھی غیرملک میں اپنے ملک کے سفیرکا کرداراداکرتا ہے وہاں اپنے ملک کے اندربھی ایک آئینے کا کرداراداکرتا ہے آزاد عدلیہ کی طرح میڈیا کا بھی آزاد ہونا کافی نہیں ہوتا یا کسی بھی کھیل کے ایمپائر کی طرح غیرجانبدار ہونا بھی ضروری ہوتا ہے چونکہ اس نے حکمران اور عوام کے درمیان آئینے کا کردار ادا کرنا ہوتا ہے اور اصل چہرے کی پہچان کروانی ہوتی ہے اسی لیے صحافی کا غیرجانبدارہونا نہایت ضروری ہے کیونکہ ایک صحافی عوام کے مسائل کواجاگرکرنے کیلئے اور ان مسائل کے حل کیلئے بھی اپنا کردار ادا کرسکتا ہے وہ سیاسی پارٹیوں سے ایماندار،دیانتدار،بے داغ ماضی اور اچھی شہرت والے نمائندے لانے میں اپنا ماڈل رول اداکرتا ہے سوشل میڈیا کے دور نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ اب ہرعام آدمی خود تجزیہ نگاراور تبصرہ نگارہے کس کو کب ننگا کرنا ہے کس کے راز کب کھولنے ہیں سب دو منٹ کا کھیل بن چکا ہے مگرسوشل میڈیا پر 90فیصدباتیں من گھڑت ہوتی ہیں جبکہ ایک صحافی عوام تک بروقت نہ صرف خبرپہنچاتا ہے بلکہ جیسے پہلے حکمرانوں کو ڈھیل ملتی تھی اب کے حکمرانوں کیلئے ڈھیل ملنا خواب بن چکا ہے صرف حکمرانوں پرتنقیدکرنے سے ہی ذمہ داری پوری نہیں ہوجاتی میڈیا کا کام عوام کو سکہ کے دونوں رخ دکھانا ہے بعض چینلز کسی سیاسی پارٹی کو ایسے پروٹوکول دیتے ہیں جیسے اس پارٹی نے اس چینل کولانچ کیا ہو جاکہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے برابرہے میڈیا کہ تنقیدتعمیری ہونی چاہیے اور ملک مفاد کوہی ترجیحی دینی چاہیے خبریں ایسی ہوںکہ لوگ اس پر اعتراض کرنے کے بجائے میڈیا کو اچھی سوچ کے ساتھ دیکھیں نہ کہ مفروضے گھڑے جائیں ہمارے صحافی برادری میں ایسے صحافی حضرات جنم لے رہے ہیں جو سوچتے ہیں کہ الیکشن کے دن ان سیاستدانوں اور پولیس کی چاپلوسی کرکے اپنا مقام بنالیں گے وہ شاید بھول گئے ہیں کہ یہ لوگ کئی بار عوام کو دھوکہ دے چکے ہیں الیکشن جیت کے جاتے ہیں پھر پورے پانچ سال نظرہی نہیں آتے تو وہ صحافیوں پر خاک ترس کریں گے ہمارے صحافی رات دن ایسے سیاستدانوں کے گن گارہے ہیں جیسے ان کے سوشل میڈیا انچارج ہوں کوئی برادری شامل ہو کوئی ایک بندہ ایک پارٹی چھوڑ کے دوسری میں جائے تو سوشل میڈیا پر ہمارے صحافی حضرات نے تصاویریں اپلوڈ کی ہوتی ہیں جس سے یقیناً انکی عزت میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ وہ معاشرے میں اپنا مقام کھورہے ہیں 25جولائی کو الیکشن ہونے ہیں جس کے بعداقتدارکے بھوکے الیکشن لڑنے والے سیاسی جوکرتمام حدیں بھول کرمیدانوں میں اترآئے ہیں کوئی نااہل ہے تواپنے بیٹے یا بیوی کو الیکشن لڑوارہا ہے کوئی اپنی بیٹی کومیدان میں لے آیا ہے سب جانتے ہیں کون سا سیاستدان صادق امین ہے کون نہیں مگر پھر بھی کسی نہ کسی کوووٹ تودینا ہے مگر افسوس تو اس بات کا ہوتا ہے کہ کہیں بھی کوئی پروگرام ہو ہمارے صحافی جھنڈ کے جھنڈ چلے جاتے ہیں میں انکو روکنا نہیں چاہتا مگر اتنا کہوں گا کہ خبروں میں وہ چیز لکھیں جو حقیقت ہے اگر صرف سیاستدانوں کی تعریفیں ہی لکھنی ہیں توانکے فلیکسز بنوا کے انکے ڈیرے پہ لگا دیں آپکانام چمکتارہے گا اور اسے بھی یادرہے گا کہ یہ میراخاص چمچہ ہے پرایک بات سوچیں آج سے 15سال پہلے نظردوڑائیں تو سیاستدان ان صحافیوں سے ملنے کیلئے ٹائم مانگتے تھے اور کوریج کیلئے رابطے کرتے تھے مگر اب دیکھ کے سن کے دکھ ہوتا ہے خود صحافی کال کرکے پوچھ رہے ہوتے ہیں کہ آپ کی آج کی یہ نیوز چلا دیں یا جس کوسپورٹ کرتے ہیں اسے پتہ بھی نہیں ہوتا کہ خبرگئی ہے کون سی گئی ہے شاید ہوسکتا ہے وہ خبروں کے پیسے دیتے ہوں مگر ان حرکتوں کی وجہ سے صحافت بدنام ہورہی ہے کیونکہ میڈیا کہ جانبداری نہ ملک کیلئے نقصان دہ ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پربھی نقصان کا باعث بن سکتا ہے میڈیا جہاں اچھے لوگوں کی روشناس کرتا ہے وہاں برے لوگوں کی نشاندہی کرنا بھی میڈیا کافرض ہے۔عوام سے توکوئی نہیں ڈرتا حالانکہ اصل پاور عوام ہے پرعوام میڈیا پربھروسہ کرتی ہے شاید یہ سیاسی مگرمچھ باز آجائیں اسی لیے میڈیا کے ہاتھ ان کی ڈوردے رکھی ہے مگرجولوگ عوام میڈیا اور عدلیہ کو مذاق سمجھتے ہیں یا انکو پیٹھ پیچھے بے وقوف کا خطاب دیتے ہیں انکو یادرہے کہ عدلیہ،عوام اور میڈیا کے پاس احتساب کی پاور ہے اب بھی وقت باقی ہے صحافیوں کو سیاست سے دور ہوکرغیرجانبدارہوکے سو چنا چاہیے تاکہ ان دونمبرسیاستدانوں کے چہروں سے نقاب اترسکیں اور عوامی نمائندے اسمبلیوں میں پہنچیں آخرمیں میں اپنی صحافی برادری سے معافی طلب ہوں کہ اگرمیری کوئی بات بری لگی تو معاف کردیں مگراپنے ملک کی عوام کی خاطر اپنی ذمہ داری کو بخوبی نبھانا چاہیے۔

Check Also

بعثت و نبوتﷺ پر ایمان کی معراج

بعثت و نبوتﷺ پر ایمان کی معراج تحریر۔۔۔ رشید احمد نعیم ، پتوکی حضور صلی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *