Home / کالم / متحدہ اپوزیشن اورپیپلزپارٹی ۔۔

متحدہ اپوزیشن اورپیپلزپارٹی ۔۔

 

 

متحدہ اپوزیشن اورپیپلزپارٹی ۔۔
عمرفاروق /آگہی
الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے جس تیزرفتاری کے ساتھ اتحادکیاتھا اسی تیزرفتاری سے یہ اتحادبکھررہاہے متحدہ مجلس عمل کے سربراہ مولانافضل الرحمن نے الیکشن کے فورابعدتمام جماعتوں کومتحدکرکے مستقبل کے سنگین حالات سے باخبرکیا اورفیصلہ کیاکہ تمام اپوزیشن جماعتیں مشترکہ فیصلے کریں گی اگرچہ مسلم لیگ ن اورپاکستان پیپلزپارٹی نے اسمبلیوں سے حلف نہ اٹھانے کے دیگرجماعتوں کے فیصلے کومستردکرتے ہوئے انہیں اسمبلی میں لانے کاراستہ فراہم کیااس کے ساتھ ساتھ یہ بھی طے کیاکہ وزیراعظم ،سپیکر،ڈپٹی سپیکراورصدارتی الیکشن متحد ہ اپوزیشن کے پلیٹ فارم سے لڑے جائیں گے اپوزیشن کے ان اجلاسوں میں سابق صدرآصف علی زرداری اورپاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے اول دن سے شرکت نہیں کی اوروہ دورسے بیٹھے نظارہ دیکھتے رہے ۔
متحدہ اپوزیشن کے ان اجلاسوں میں پی پی پی کے چیئرمین اورشریک چیئرمین کی عدم شرکت سے ہی واضح ہوگیاتھا کہ و ہ فرینڈلی اپوزیشن کاکرداراداکرنے جارہے ہیں جس طرح سابق اپوزیشن لیڈرخورشیدشاہ مسلم لیگ ن کے دورحکومت میں کرداراداکرتے رہے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ملک میں تبدیلی کی لہرنے سندھ کومتاثرنہیں کیاتھا صرف پنچاب اوروفاق میں یہ تبدیلی آئی ہے سندھ ،بلوچستان اورکے پی کے میں پرانے حکمران ہی نئے چہروں کے ساتھ اقتدارپربراجمان ہوئے ہیں آصف علی زرداری اس گئے گزرے دورمیں اس کم پربھی راضی ہوگئے تھے کیوں کہ حالات کے تیوربتارہے ہیں کہ مستقبل میں ان کے لیے کوئی اچھی خبرنہیں تھی ۔اگروہ جارحانہ اپوزیشن کرتے ہیں توپھراڈیالہ جیل ایک اورمہمان کے استقبال کے لیے تیارہے سواسی کومدنظررکھتے ہوئے انہوں نے،، دوستانہ اپوزیشن ،،کے کردارکافیصلہ کیاہے ۔
پیپلزپارٹی نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی آنکھوں میں محبت کی جھلک دیکھی ہے اس لیے وہ ڈگمگاگئی ہے ، آگ دونوں طرف سے برابرلگی ہوئی ہے کہ مصداق پاکستان تحریک انصاف کوبھی علم ہے کہ وہ تمام ترٹانگہ پارٹیوں اورجہانگیرترین کے جہازمیں بیٹھنے والے ،آزاد،،غلاموں کی حمایت کے باوجود ایوان میں قانون سازی کی پوزیشن میں نہیں ہے اس لیے اراکین اسمبلی کی حلف برداری کے موقع پرعمران خان نے سابق صدر آصف علی زرداری اور بھٹو کی سیاست کے اصل جانشین ایوان میں نوزائیدہ رکن اسمبلی بلاول بھٹو زرداری اور سابق اپوزیشن رہنما خورشید شاہ سے ان کی نشستوں پر جاکر مصافحہ کیا ، اوردوستی کاہاتھ بڑھایادوسری طرف سے بھی اس ہاتھ کوجھٹکایانہیں بلکہ دست تعاون کوآگے بڑھ کرتھام لیا ۔پاکستان پیپلزپارٹی کو گاجر اور ڈنڈے کی پالیسی کا سامناہے ، اس بنا پر پاکستان پیپلزپارٹی اگر پی ٹی آئی کے ساتھ کسی طرح کی بھی انڈر سٹینڈنگ قائم کرلیتی ہے تو دونوں جماعتوں کونہ صرف فائدہ ہوگا بلکہ ایک کی چونچ کو دوسرے کی دم سے باندھ کر دونوں جماعتوں کو قابو میں رکھا جاسکے گا،
یہ اس دست تعاون کاہی کرشمہ تھا کہ متحدہ اپوزیشن سپیکراورڈپٹی سپیکرکے الیکشن میںکوئی اپ سیٹ نہیں کرسکی حالانکہ متحدہ اپوزیشن جماعتیں کوشش کرتیں توبہت کچھ ہوسکتاتھا مگر،،مردحر،،کی کوئی چال یہاںکام نہیں آئی بلکہ انہوںنے چال توچلی ہی نہیں ، انہوں نے سیدخورشیدشاہ کو ہارنے کے لیے ہی سپیکرکاامیدواربنایاتھا یہ بات واضح ہے کہ سید خورشید شاہ سپیکر کے امیدوار کے طورپر اپنے حریف اسد قیصر سے سیاسی لحاظ سے قدرے بھاری بھرکم تھے اور خفیہ رائے شماری کا حربہ بہت ہی کار گر ثابت ہوسکتاتھا مگریہ بھی مانناپڑے گا کہ اگرمجموعی طورپر ملک میں آزادانہ سیاسی ماحول ہو ، تمام فریقین کیلئے یکساں مواقع ہوںتواپ سیٹ کی گنجائش ہوتی ہے مگراوپروالے ہاتھ نے نیچے والے ہاتھ کوپہلے ہی کوئی ایڈونچرکرنے سے روک دیاتھا ۔
چونکہ پی پی پی کے پاس نئے پاکستان میں شائد کچھ آپشنز زیادہ ہیں اس لئے پی پی پی ان آپشنز کے حصول کیلئے شائد ن لیگ سے علیحدہ ہونے کیلئے کوئی حیلہ بہانہ ڈھونڈرہی تھی اورانہیں وہؒؒؒ بہانہ میسرآگیا جب مسلم لیگ ن نے وزیراعظم کے امیدوارکے طورپرشہبازشریف کواپناامیدوارنامزدکیا تومتحدہ اپوزیشن میں شامل جماعتوں نے ان کی حمایت کی مگرپاکستان پیپلزپارٹی یہ عجیب منطق سامنے لے آئی کہ مسلم لیگ ن اپناامیدوارتبدیل کرے حالانکہ متحدہ اپوزیشن کے اجلاس میں یہ طے پایاتھا کہ سپیکرکاامیدوارپاکستان پیپلزپارٹی ،ڈپٹی سپیکرمتحدہ مجلس عمل اوروزیراعظم کاامیدوارمسلم لیگ ن سے ہوگا وزیراعظم کے الیکشن میں پیپلزپارٹی نے اس شہبازشریف کوووٹ دینے سے انکارکردیاجس شہبازشریف اوراس کی جماعت کاووٹ انہوں نے سپیکرکے امیدوارکے لیے حاصل کیاتھا مطلب میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو ،۔
اس کے ساتھ پیپلزپارٹی نے نوشتہ دیوارپڑھ لیاتھا یاانہیں یہ سبق پڑھادیاگیاتھاکہ اس انتخاب میں عمران خان کی کامیابی دیوار پر لکھی ہوئی ہے، پیپلز پارٹی، شہباز شریف کو ووٹ دے بھی دے تو انہوں نے کون سا وزیراعظم ہو جانا تھا، کیونکہ اگر شہباز کا کوئی چانس ہوتا تو وہ سارا کچھ نہ ہوتا جو انتخاب سے کئی مہینے پہلے ہوتا رہا، انتخابی عمل کے دوران بھی ہوا اور آج بھی کسی نہ کسی انداز میں ہورہا ہے،پیپلز پارٹی کے سارے قیمتی ووٹ شہباز شریف کی جھولی میں پڑ بھی جاتے تو بھی اس سے ان کا مقدر نہیں بدلناتھا، انہیں ہارناہی تھا اور ہر قیمت پر ہارنا تھا، مگراس مشق میں اچھا ہواکہ کچھ لوگ توپہچانیں گے ۔
چلومان لیتے ہیں کہ وفاق میں متحدہ اپوزیشن کاوزیراعظم کاامیدوارٹھیک نہیں تھا مگرپیپلزپارٹی نے پنچاب میں بھی سپیکر،ڈپٹی سپیکراوروزارت اعلی کے لیے مسلم لیگ ن کے امیدوارکوووٹ نہیں دیاکیوں کہ پنچاب میں مقابلہ کافی کلوزتھا پیپلزپارٹی ایساتعاون کرکے کوئی ایڈونچرنہیں کرناچاہتاتھی خدانخواستہ پنچاب میں قوتوں کی امیدوں کے برخلاف ہوجاتاتوظاہرہے کہ پیپلزپارٹی اس گناہ میں شریک سمجھی جاتی اس لیے پاکستان پیپلزپارٹی نے کمال فنکاری سے کام لیتے ہوئے پنچاب میں غیرجانب داررہنے کافیصلہ کیا اورجانب داری بھی ایسی کہ سات میں سے تین اراکین نے سپیکرشپ کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے امیدوارکوووٹ دیاتاکہ تسلی رہے کہ فیورٹ امیدوارکے شکست کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے ۔
بات یہاں ہی ختم نہیں ہوجاتی ایک زرداری سب پربھاری کے مصداق وہ اپوزیشن پربھی ابھی تک بھاری ثابت ہوئے ہیں کیوں کہ ایک طرف وہ متحدہ اپوزیشن کے ساتھ کندھاملارہے ہیں تودوسری طرف سٹیلبلشمنٹ کی طرف بھی دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے بھرپورسہولت کاری فراہم کررہے ہیں ،متحدہ اپوزیشن موجودہ سیاسی صورتحال میں سینٹ ،قومی اسمبلی اورچاروں صوبائی اسمبلیوںمیں نمبر گیم کی بنیاد پر اپناصدرلاسکتی ہے بلکہ چیئرمین سینٹ بھی اپوزیشن جماعتوں سے ہوسکتاہے مگرپیپلزپارٹی نے متحدہ اپوزیشن کواعتمادمیں لیے بغیربیرسٹراعتزازحسن کواپناصدارتی امیدوارنامزدکردیاہے جس سے واضح ہوگیاہے کہ پیپلزپارٹی نے ایک بارپھرپاکستان تحریک انصاف کے صدارتی امیدوارعارف علوی کاراستہ صاف کردیاہے ۔
نگاہیں سوچ رہی ہیں کہ ابن آدم نے
خرد گنوا کے جنوں آزما کے کیا پایا۔۔
شاہ محمود قریشی اور شیخ رشید جیسے لوگ تو کہہ رہے ہیں کہ متحدہ اپوزیشن جلد ہی بکھر جائیگی مسلم لیگ( ن) اور پیپلز پارٹی کا ہنی مون زیادہ عرصہ نہیں چلے گایہ دونوں چوں کہ اندرکی بات جانتے ہیں کہ اندربہت کچھ طے ہوچکاہے ، واقفان حال کا کہنا ہے کہ ن لیگ اور پی پی پی اپوزیشن میں تو اکھٹے ہوگئے ہیں لیکن دونوں فریق اپنے اپنے معاملات میں الجھے ہوئے ہیں سندھ میں پیپلزپارٹی کی اصل حریف متحدہ قومی موومنٹ وفاق میں دووزارتیں حاصل کرچکی ہے ضمنی الیکشن میںبھی انہیں کچھ مزیدمل جائے گا سندھ میں پی ٹی آئی کاگورنرآچکاہے پیپلزپارٹی کے پاس اب زیادہ چانس نہیں ہے کہ وہ کوئی ایڈونچرکرے یااچھابچہ بن کرجی حضوری نہ کرے ،سابق صدرآصف علی زرداری اب کسی کواینٹ سے اینٹ بجانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں البتہ یہ طے ہے کہ حقیقی اپوزیشن مسلم لیگ ن اورمتحدہ مجلس عمل ہی رہے گی۔
کہاں کا مہرِ منور کہاں کی تنوریں
کہ بام و در پہ سیاہی مچل رہی ہے ابھی

Check Also

بعثت و نبوتﷺ پر ایمان کی معراج

بعثت و نبوتﷺ پر ایمان کی معراج تحریر۔۔۔ رشید احمد نعیم ، پتوکی حضور صلی ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *