Home / کالم / PMکاقوم سے خطاب اورقوم کی امیدیں

PMکاقوم سے خطاب اورقوم کی امیدیں



PMکاقوم سے خطاب اورقوم کی امیدیں
تحریر عقیل خان
aqeelkhancolumnist@gmail.com
عمران خان نے 22سا ل کی محنت کے بعد پاکستان کے بائیسویں وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔حلف اٹھانے کے بعد قوم سے اپنے پہلا خطاب کیا۔خطاب میں جو باتیں خانصاحب نے کیں اگر ان پر عمل کرلیا جائے تو پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے۔ جن مسائل کی طرف خانصاحب نے اشارہ کیا ہے یہ حقیقت ہے کہ یہ مسائل ہی ہمارے ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ ان مسائل کو ہر کوئی دیکھ رہا ہے مگر ان سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے کوئی بھی حکمران قدم نہیں اٹھا رہا تھا۔عمران خان نے ان مسائل کو اجاگر تو کردیا اب دیکھنا ہے کہ جس مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے 22سال انتظار کیا اب وہ اس کرسی پر بیٹھ کر ان مقاصد کو حاصل کرتے ہیں یا پھر یہ باتیں محض باتیں ہی نا ہوں۔
وزیرِاعظم پاکستان عمران خان نے حلف اٹھانے کے بعد قوم سے اپنے پہلے خطاب میں ملک کے معاشی حالات میں بہتری اور سرکاری اخراجات میں کمی کے علاوہ ٹیکس اور تعلیم کے نظام کو ٹھیک کرنے کا عندیہ دیا ہے۔عید سے چند روز قبل ا توار کی شب قوم سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے حسب روایت اپنی سیاسی جدوجہد کا ذکر کیا اور اپنے کارکنوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کو وزیراعظم کے منصب تک پہنچنے میں مدد کی۔ان کا کہنا تھا کہ میرا مقصد اس ملک کو اقبال کے تصور کے مطابق حقیقی فلاحی ریاست بنایا جائے۔ قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم آج کہاں ہیں اور ہمارے مسائل کیا ہیں اور ہم ان کا حل کیسے تلاش کریں گے؟
نو منتخب وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت بے روز گاری، قرضوں اور دیگر مصائب کا شکار ہے۔ صاحب اقتدار افراد کے پاس کروڑوں کی گاڑیاں اور پر تعیش گھر ہیں۔ قوم کو بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں۔ہمیں اپنے اندر ہمدردی پیدا کرنی ہوگی۔ ہمیں اپنے دل میں ان لوگوں کے لیے احساس پیدا کرنا ہوگا۔ 45 فیصد بچوں کو مناسب خوراک نہیں ملتی، سوا کروڑ بچہ سکولوں سے باہر ہے۔عمران خان نے مسائل کے حل کے لیے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ پیغمبر اسلام کے اصولوں پر عمل کرنا ہوگا۔ انھوں نے مدینے کی ریاست کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’سب سے پہلے قانون کی بالادستی قائم کرنی ہوگی۔ زکواةاور ٹیکس جن کی مدد سے غریبوں کے ضروریات پوری کی جائے،تعلیم کو ترجیح دینا ہوگی۔ ’ایک اچھے رہنما کو ’صادق اور امین‘ ہونا چاہیے جو خود کو احتساب کے لیے عوام کے سامنے پیش کرے۔ اقتدار سے فائدہ نہ اٹھائے۔‘
وزیرِ اعظم عمران خان نے خرچوں پر کنٹرول کرنے کے بارے میں کہا کہ ’میں ملٹری سیکریٹری کے گھر کے پاس تین کمروں کے گھر میں رہوں گا۔ تین ملازم رکھوں گا۔ میں صرف سکیورٹی کی وجہ سے یہاں رہ رہا ہوں۔وزیراعظم ہاو¿س میں موجود بلٹ پروف گاڑیوں کو نیلام کروں گا۔ گورنر ہاو¿سز اور وزرائے اعلی کی قیام گاہوں پر سادگی لائیں گے۔ خرچ کم کریں گے۔ گورنر ہاو¿سز کے مستقبل کے لیے فیصلہ کریں گے۔ وزیرِ اعظم ہاو¿س میں ایک اعلی تحقیقی یونیورسٹی بنائی جائے گی۔ نئے پاکستان میں نئے سوچ کی ضرورت ہے یہ پیسہ بچا کر اس طبقے پر خرچ کرنا ہے جو پیچھے رہ گیا ہے۔ ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کی جائے گی جو حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے تجاویز پیش کرے گی۔
بیرونی قرضے اور ٹیکس کے حوالے سے اپنے خطاب میں وزیرِ اعظم پاکستان نے کہا کہ’ اگر دنیا ہم پاکستانیوں کی عزت نہیں کرتی اس میں ہمارا قصور ہے کیونکہ ہم دنیا کے سامنے ہاتھ پھیلا کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ 20 کروڑ لوگوں میں صرف آٹھ لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔ سب سے پہلے ہم ایف بی آر کو ٹھیک کریں گے۔ لوگوں کو اعتماد نہیں اس لیے لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔ میں عوام کو ٹیکس کے تحفظ کی ضمانت دوں گا اور ہم ہر روز بتائیں گے کہ آپ کے ٹیکس کو کہاں خرچ کیا ہے۔کستان کا چوری شدہ پیسہ بھی واپس لایا جائے گا۔ اس کے لیے ایک ٹاسک فورس بنائی جائے گی۔ منی لانڈرنگ کرنے والے اربوں روپے پاکستان سے باہر لے جا رہے ہیں یہ اصل مجرم ہیں۔’جن پارٹی لیڈر کے پیسے ملک سے باہر ہیں انھیں ووٹ نہ دیں۔‘عمران خان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی برآمدات بڑھائیں گے اور سرمایہ کاری کو فروغ دیں گے۔ ملک میں چھوٹے تاجروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ روزگار پیدا ہو۔ ہم بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے سرمایہ کاری کا ماحول پیدا کریں گے۔’ہمیں ڈالرز کی ضرورت ہے۔ میں چاہوں گا کہ بیرونِ ملک پاکستانی بینکوں کے ذریعے پیسے بھیجیں۔ ہماری مدد کریں۔ ‘
کرپشن کے خاتمے کے متعلق عمران خان کا کہنا تھا کہ ’جو صاحب اقتدار کرپشن کرتے ہیں تو ادارے تباہ کر دیتے ہیں۔ ہم نیب کو طاقتور بنانے کے لیے اس کی بھر پور مدد کریں گے۔ہم ایک قانون ’وسل بلوور ایکٹ ‘منظور کریں گے۔ جس کے تحت کرپشن کی نشاندہی کرنے والے کو بازیاب شدہ پیسے کا 30 فیصد اسے دیا جائے گا۔عمران خان کے بقول جب بدعنوان لوگوں پر ہاتھ ڈالیں گے تو یہ ہر محکمے میں شور مچائیں گے۔ لیکن آپ میرے ساتھ رہیں۔ یا یہ ملک بچے گا یا یہ کرپٹ لوگ بچیں گے۔ ملک میں انصاف کا نظام درست کریں گے۔ لوگ برسوں تک مقدموں کے فیصلوں کا انتظار کرتے ہیں۔ چیف جسٹس کے ساتھ بات کریں گے کہ مقدمات کو ایک سال سے زیادہ طوالت نہ دیں۔جیلوں میں بھی غریب لوگ ہی نظر آتے ہیں۔ ہم وکیلوں کو بھیجیں گے کہ دیکھیں کے قیدیوں کے مسائل کیا ہیں اور مقدمات کیا ہیں۔ کئی کے پاس فیس نہیں‘’ہم پولیس کا نظام ٹھیک کریں گے۔
تعلیم اور صحت پر روشنی ڈالتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’پاکستان دنیا کے ان پانچ ملکوں میں شامل ہے جہاں بچے گندے پانی کی باعث مرتے ہیں۔جہاں عورتیں زچگی کے دوران ہلاک ہوتی ہیں۔سرکاری ہسپتالوں کے نظام کو بھی درست کیا جائے گا۔ جب تک ہم ان سرکاری ہسپتالوں کی انتظامیہ کو درست نہیں کریں گے کام نہیں ہوگا۔ اس کے لیے بھی ٹاسک فورس بنائی ہے۔ اور ہم سندھ حکومت کے ساتھ مل کر بھی یہی کام کریں گیں، سارے پاکستان میں ہیلتھ کارڈ متعارف کروائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’نجی اداروں میں تعلیم دلوانے کے لیے تنخواہ دار طبقہ قربانیاں دے رہا ہے۔ وہاں کوئی ضابطہ نہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سرکاری سکولوں کا معیار بڑھائیں گے۔ ہم نجی سکولوں کو دعوت دیں گے کہ وہ شام کے اوقات میں انہی عمارتوں میں اپنا سکول چلائیں۔
وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا تھا پانی کا مسئلہ بھی وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ رہا ہے۔ کراچی، کوئٹہ اور حتیٰ کے اسلام آباد کے بھی کئی علاقوں میں پانی نہیں ہے۔’ایک محکمہ بنایا جائے گا جس میں پینے کے پانی اور زراعت کے پانی کو بچانے کے طریقے سکھائیں جائیں گے۔ بھاشا ڈیم ہمیں ہر قیمت پر بنانا ہوگا۔ چیف جسٹس نے ایک زبردست قدم لیا ہے۔ ہم اس کے لیے پیسہ اکھٹا کریں گے۔ ہمیں اپنے کسانوں کی مدد کرنی ہوگی۔ ہم انہیں زیادہ سے زیادہ پیداوار کے طریقے سکھائیں گے۔ ہم زرعی تحقیق کریں گے۔ ملک میں کھیلوں کے میدان بنانے اور درخت لگانے کی مہم شروع کریں گے۔ بڑے پیمانے پر پاکستان کو سرسبزکرنے کی مہم چلائیں گے۔ ہر سال چار نئے ریزارٹ کھولے جائیں گے اور سیاحت کو فروغ دینا ہے جبکہ ساحلی علاقوں کو بھی خوبصورت بنایا جائے گا۔
عمران خان نے کہا کہ فاٹا میں تعمیراتی کام شروع کیے جائیں گے اور وہاں بلدیاتی نظام لایا جائے گا۔بلوچستان میں حالات برے ہیں اور بلوچستان میں وہ لوگ جو ناراض ہیں یا عسکریت پسند بن چکے ہیں ان کے مسائل حل کرنے کی پوری کوشش کریں گے اور ان کو ساتھ لے کر چلیں گے۔جنوبی پنجاب کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ صوبہ بننا چاہیے اور اس کے لیے ہم کام کریں گے کیونکہ اتنے بڑے پنجاب میں ایک جگہ سے کام نہیں ہوسکتا ہے۔
عمران خان نے اپنے خطاب کے آخر میں کہا کہ ان کی کسی سے ذاتی لڑائی نہیں ہے ۔ اس کام کے لیے عوام ان کا ساتھ دیں اور ‘سوشل میڈیا کے اس دور میں آپ ہم پر نظر رکھیں۔میں عوام کو سادہ ترین زندگی گزار کر دکھاو¿ں گا، میں عوام کوایک ایک پیسہ بچا کر دکھاو¿ں گا اور جب تک حکومت میں ہوں کوئی کاروبار نہیں کروں گا۔ ایک دن آئے گا کہ پاکستان میں کوئی زکوٰاة لینے والا نہیں ملے گا۔ ملک کو ایسا بنایا جائے گا کہ وہ امداد لینے کے بجائے دوسرے غریب ممالک کو امداد فراہم کرے گا۔
اگر اس خطاب پرمحب وطن پاکستانی بن کر سوچا جائے تو یہ خطاب برا نہیں ۔ سیاست سے بالاتر ہوکر دیکھا جائے تو ہم انہیں مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔ ہمارے اوپر قرضوں کا اتنا بوجھ ہے کہ دنیا میں آنے سے پہلے ہی ہمارا بچہ مقروض ہوتا ہے۔ اگر نومنتخب وزیراعظم اپنے اس خطاب کے مطابق عمل کریں تو مجھے یقین ہے کہ عوام ان کے شانہ بشانہ چلے گی اور اگر الیکشن جیتنے کے بعد جو پہلی تقریر کی تھی اور اس پرعمل کی بجائے یوٹرن لے لیاگیا تھا تو اس خطاب کو بھی عوام صرف سیاسی شعبدہ بازی سمجھے گی۔ بطور پاکستانی میں سمجھتا ہوں کہ ملک کے ساتھ بہت کھلواڑ ہوگیا اور اب ایک سنجیدہ سوچ کے ساتھ ملک کی عوام کو وہ حق ملنا چاہیے جو اس کا ہے۔ خانصاحب سے عوام نے امیدیں وابستہ کرلیںہیں تو اب ان کو بھی ان کی امیدوں پر پورا اترنا چاہیے۔

Check Also

‫شہر وجود پاتا ہے جب ہوائی اڈہ ابھرتا ہے: گوانگچو میں ورلڈ روٹس 2018ء شروع گوانگچو، چین، 17 ستمبر 2018ء/سنہوا-ایشیانی

‫شہر وجود پاتا ہے جب ہوائی اڈہ ابھرتا ہے: گوانگچو میں ورلڈ روٹس 2018ء شروع ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *