Home / کالم / بے روزگاری غربت کے ڈیرےسرائیکی وسیب

بے روزگاری غربت کے ڈیرےسرائیکی وسیب

 

 

ٍ بے روزگاری غربت کے ڈیرےسرائیکی وسیب)
تحریر :علی جان ای میل:

aj119922@gmail.com
سرائیکی خطہ کی عوام کے اندر کیا شعور اجاگرہوا کہ انہوں نے مضبوط ترین تخت لہور اور اسکے چوکیداروں کا ستیاناس کرکے رکھ دیاتخت لہور کے اس انجام کے پیچھے سرائیکیوں پر کیے گئے مظالم کی داستان بھری پڑی ہے جو قیام پاکستان سے ابتک مسلسل چلی آرہی ہے سرائیکیوں میں یہ کمال کا جذبہ ہے کہ ان پر جب کوئی حملہ آور ہوتا ہے تویہاں کے باسی اپنی سکت سے بھی بڑھ کرمزاحمت کرتے ہیںاس علاقہ میں محبت پیار اتنا کوٹ کوٹ کر بھراہوا ہے کہ آپ محبت سے چاہیں تو ان کو کھا جائیں مگراگرکسی نے نفرت کا مظاہرہ کیا تو یہاں کے لوگ خونخوار شیربن جاتے ہیں اب مسئلہ چل رہا ہے کہ سرائیکی صوبہ ہو یا جنوبی پنجاب تو کچھ لوگ کہتے ہیں یار صوبہ بن جائے نام بعد میں تبدیل ہوجائے گا تو میں ان لوگوں سے عرض کرنا چاہتاہوں کہ صوبہ سرحد کا نام تبدیل ہوا تو اس خوش فہمی میں نہ رہیں یہ بھی دیکھیں کہ نام تبدیل کرنے میں 60سال سے اوپرلگ گئے جس کی وجہ سے کئی لوگوں نے اس تحریک کو اپنا ٹائم دیا ہوگا توکسی نے مالی سپورٹ کرکے اس فرض میں اپنا حصہ ڈالا ہوگا ۔ٹیپوسلطان کے ساتھ جیسے غدارہوتے تھے ویسے اس قوم میں بھی میں نے دیکھے ہیں جنہیں تخت لہور کے تلوے چاٹے بغیروقت نہیں گزرتا جیسے کہ حالیہ الیکشن 2018میں جمال لغاری،اویس لغاری،وغیرہ جیسے لوگوں نے اپنی ہی قوم کی پیٹھ میں چھراگھونپا مگرسرائیکی عوام نے ان کے چاروں شانے چت کرکے انکو لوہے کے چنے چبوادیے۔اس الیکشن میں جو پی ٹی آئی کی جیت ہوئی وہ دراصل سرائیکی عوام کی جیت ہے کیونکہ سب سے زیادہ سیٹیں پی ٹی آئی کو سرائیکی وسیب سے جیتیں ہیں مگراس کے پیچھے کئی سالوں کی محنت اور طویل جدوجہدہے جوکہ صوبہ ملتان کی بحالی صوبہ سرائیکستان کی شکل میں اس تحریک کے پیچھے مزدور اور عام آدمی تھا جنہوں نے مشاعروں اور ادبی پروگراموں ،پریس کانفرنسوں،سرائیکی صوبہ محاز،سرائیکی پارٹی،سرائیکستان قومی موومنٹ،سرائیکستان نیشنل فرنٹ،سرائیکستان قومی انقلابی پارٹی،سرائیکی قومی تحریک،سرائیکی لوک سانجھ سے ہوتی ہوئی سرائیکستان ڈیموکریٹک پارٹی،سرائیکستان قومی اتحاد،سوجھل دھرتی واس،سرائیکی ایکشن کمیٹی،سرائیکستان گرینڈالائنس،سرائیکستان گریجویٹ ایسوسی ایشن اور ہماری تحریک کے وہ لوگ جنہوں نے اپنی ساری زندگی اس تحریک کے نام کردی جن میں تاج محمدلنگاہ،ملک منظوربوہڑ،ڈاکٹرعاشق ظفربھٹی،حمیداصغرشاہین،اسلم رسول پوری،استادفداحسین گاڈی ایسے رہنماﺅں اور کئی سرائیکی پارٹیوں کی تحریک کا نتیجہ ہے کہ آج ہرسیاستدان کے منہ پر الگ صوبے کا نام ہے اور الیکشن 2018میں وعدے کرتے نظرآئے آج بھی اپنی ماءدھرتی کو تکلیف میں دیکھ کرکئی سرائیکی نوجوان سامنے آرہے ہیں جوآنے والی نسلوں کو اپنے بزرگوں کی قربانیوں کی داستانیں سنائیں گے آصف خان سیکرٹری جنرل ایس ڈی پی پاکستان سے باہربیٹھ کر ہفتہ میں 3دن اپنی ماءدھرتی کو دیتا ہے تاکہ اس کا قرض کم نہ ہوتو بڑھے بھی نہ اس کے علاوہ رانا فراز نون،خواجہ غلام فرید کوریجہ،ظہوردھریجہ،کرنل جبارعباسی،ایم اے خان سرائیکی،جسیے لوگ نے سرائیکی تحریک کی کمانڈسنبھالی ہوئی ہے انہی لیڈروں کی وجہ سے آج کے سرائیکی نوجوانوں کے منہ سے یہ بات سنائی دیتی ہے کہ ہم بھی پنجاب کا حصہ ہیں تو اپرپنجاب کی طرح ہمارے لیے سہولیات کیوں نہیں ؟ہم پسماندہ،ناخواندہ کیوں؟بیروزگاری غربت،جہالت سرائیکی خطہ کا مقدرہی کیوں؟شاید ان سوالوں کا یہی جواب ہے کہ ہم سرائیکی ہیںیہ سوال پہلے ذہن میں ہوتے تھے مگرگزشتہ برس اکتوبر2017کو کوٹ سبزل سے ملتا ن تک سرائیکی لانگ مارچ نکلا تو اسکے بعدیہ سوال سوال نہیں رہے بلکہ گونجنے لگے ۔ایک خصوصی منصوبہ کے تحت ضیاء دور میں سرائیکیوں کو کے خلاف غیرمحسوس طریقے سے ان کو کمزور کیا گیا اور لیڈرشپ ان لوگوں کو دی گئی جن میں پنجابی کوٹ کوٹ کربھری ہوئی تھی جس وجہ سے سرائیکی اورپنجابی بھائیوں کو ایک دوسرےب کے خلاف لڑوایا جاتا رہا اور آج تک وہی ٹرِک چل رہی ہے مگران بھائیوں کو کچھ سمجھ نہیں آتی کہ اصل جنگ ان لوگوں کی ہے جن کو کرسی کی بھوک ہے تو آپ لوگ آپس میں کیوں لڑرہے ہو۔سرائیکی خطہ میں آج بھی اپرپنجاب سے ملازم ہے جن میں کمشنر،ڈی آئی جی،ایس پی وغیرہ اورحیرانی کی بات تو یہ ہے کہ وہ خود تو یہاں پر آتے ہیں ساتھ اپنے کچھ ہمدرد بھی لاتے ہیں جن کو پاس ہی کسی محکمہ میں نوکریاں لگواتے ہیں اور یہ بھی خاص طریقہ ہے یہاں کے لوگوں کے حق پرڈاکے کا۔حالانکہ کئی سرائیکی وسیب زادون نے این ٹی ایس وغیرہ کے امتحان پاس کیے مگرزبانی انٹرویو میں ان کو فیل کرکے گھربھیج دیا جاتا ہے ان کا صرف قصور اتنا ہوتا ہے کہ وہ سرائیکی دھرتی کے سپوت ہیں گزشتیہ ادوار میں 300ججز کی بھرتی ہوئی مگرسرائیکی وسیب کوآٹے میں نمک کے برابرحصہ دیا گیا اگرکہتے ہیں کہ ہمارامعیارتعلیم اچھا نہیں تو دیکھ لیں گزشتہ سال اور اس سال فرسٹ پوزیشن اور سیکنڈ پوزیشن کہاں کہاں سے ہیں چلو مان لیں معیار تعلیم اچھا نہیں اگرنہیں تو کس نے تعلیم کا اچھا معیارکرکے دینا ہے جب ووٹ کی باری آتی ہے تو ہربات مانتے ہو بعد میں دورے پڑنے لگتے ہیں یا سرائیکی عوام کی شکل ہی پسند نہیں آتی ۔اس الیکشن سے قبل جب مسلم لیگ ن کا سورج غروب ہورہا تھا تو سرائیکی خطہ کے کچھ ایم این ایز نے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنایا تو چند دن بعدانہوں نے یہ محاذ پی ٹی آئی کے ساتھ انضمام ہوگیاجس کے بعدپی ٹی آئی نے سرائیکی وسیب کے لوگوں کو یقین دلوایا کہ ہم حکومت میں آکر100دن کے اندر الگ صوبہ بنائیں گے تو سرائیکی عوام نے عمران خان پر یقین کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو جتوایا بلکہ عمران خان کو وزیراعظم بنوانے میں ماڈل رول اداکیا شاید عوام کو عمران خان پر اس وجہ سے اعتما ہو اکہ اسکے اباﺅاجداد بھی سرائیکی ہیں ۔امیدہے عمران خان سرائیکی صوبہ ضروربنائے گا اگرایسا معجزہ ہوجائے کہ سرائیکی عوام کو ان کا حق لوٹا دیا جائے برسرزمین حقائق مزیدانتظارفکری تحریک اور وسطی پنجاب کی حمایت کاتقاضہ کررہے ہیں

Check Also

نور محمدی ﷺ

    نور محمدی ﷺ کالم : بزمِ درویش تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی ای میل: ...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *